.

امریکا کا شمالی شام میں ایک ہزار اضافی فوجی بھیجنے کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ الرقہ شہر کو داعش تنظیم سے واپس لینے کے لیے معرکے کی تیاری کے سلسلے میں شام میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد دُگنی کر دیے جانے کا امکان ہے۔

امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" نے وزارت دفاع کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس اقدام سے شام میں جاری لڑائی میں امریکی جنگجو افواج کی براہ راست شرکت کے امکان میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ اضافے کا انحصار کئی امور پر ہے۔ ان میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کو پیش کیے جانے والے اسلحے کی تعداد اور الرقہ کو واپس لینے کے مشن میں ترکی جیسی علاقائی قوتوں کے ممکنہ کردار کی نوعیت شامل ہے۔

امریکی فوج کے ترجمان کرنل جان ڈورین کا کہنا ہے کہ الرقہ شہر کو واپس لینے کے آپریشن میں شریک سیریئن ڈیموکریٹک فورسز میں تقریبا 75% عرب جنگجو ہوں گے۔

امریکی فوج کے ترجمان نے مزید بتایا کہ وہ الرقہ کی آزادی میں ایک متعین حد تک کرد جنگجوؤں کی شرکت کی توقع رکھتے ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ الرقہ کی واپسی کے معرکے میں ترکی کا بھی کردار ہوگا اور ترکی کے کردار کا تعین کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان مشاورت جاری ہے۔