.

سعودی عرب میں پاکستانی سمیت دو منشیات اسمگلروں کے سرقلم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک پاکستانی شہری سمیت منشیات کے دو اسمگلروں کے جمعرات کے روز سر قلم کردیے گئے ہیں۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے ان مجرموں میں ایک کی شناخت ناصرحرشان کے نام سے کی ہے اور وہ سعودی شہری تھا۔پاکستانی شہری کا نام نعمت اللہ خستہ گل بتایا گیا ہے۔

ان دونوں مجرموں کو ایک فوجداری عدالت نے سعودی عرب میں منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔ایس پی اے کے مطابق حرشان حشیش کی اسمگلنگ میں ملوّث تھا اور خستہ گل ہیروئین کی اسمگلنگ میں ملوّث رہا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں سزائے موت کے مجرموں کے تلوار سے سرقلم کیے جاتے ہیں اور بالعموم ایک مجمع عام کے سامنے مجرموں کو موت سے ہم کنار کیا جاتا ہے۔اس سال اب تک سزائے موت کے بیس قیدیوں کے سرقلم کیے جاچکے ہیں۔

لندن میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال سعودی عرب میں ڈیڑھ سو سے زیادہ مجرموں کے سرقلم کیے گئے تھے۔اکتوبر 2016ء میں سعودی شاہی خاندان کے ایک فرد شہزادہ ترکی بن سعود الکبیر کا بھی قتل کے جُرم میں سرقلم کردیا گیا تھا۔

سنہ 2015ء میں ایک سو اٹھاون افراد کے مختلف جرائم کی پاداش میں سرقلم کیے گئے تھے۔گذشتہ دو عشروں میں ایک سال میں موت سے ہم کنار ہونے والے مجرموں کی یہ سب سے زیادہ تعداد تھی۔