ایرانی تربیت یافتہ حوثی باغی یمنی فوج کے ہاتھوں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن کی سرکاری فوج نے اتوار کے روز میدی شہر اور اس کے اطراف میں آپریشن کے دوران متعدد حوثی باغی جنگجوؤں کو حراست میں لیا ہے۔ حراست میں لیے گئے شدت پسندوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی اور لبنانی عسکری ماہرین کی زیرنگرانی جنگی امور کی تربیت حاصل کر رکھی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اتوار کے روز یمنی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ فورسز نے میدی شہر اور اس کے اطراف میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کیا تھا جس میں متعدد جنگجو ہلاک اور زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ کئی گرفتار کیے گئے ہیں۔

گرفتار ایک حوثی جنگجو نے اپنی شناخت فرج محمد شراد کے نام سے کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے میرے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا ہے اور اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں دی گئی۔ گرفتار جنگجو نے اعتراف کیا کہ باغیوں کی صفوں میں ایرانی اور لبنانی عسکری ماہرین موجود ہیں جو باغیوں کو لڑائی کی تربیت فراہم کررہے ہیں۔

یمن کی سرکاری فوج نے میدی شہر کے جنوب مغرب سے اندر داخل ہو کر باغیوں کے زیرتسلط سرکاری عمارتوں کو ان سے چھڑا لیا۔ اس سے قبل آئینی فورسز نے میدی شہر کے جنوب مشرقی سمت میں کارروائی کرکے الحوض، تبہ الخنادق، تبۃ الحرورہ کو باغیون سے چھڑا لیا تھا۔

میدی شہر کے چاروں اطراف سے محاصرے کے بعد باغیوں کے کئی اسلحہ ڈپو بھی قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔

قبل ازیں ’العربیہ‘ نیوز چینل کے نامہ نگار نے اطلاع دی تھی کہ عرب اتحاد کی مدد سے یمن کی مزاحمتی فورسز نے حجہ گورنری کے میدی شہر کی طرف اہم پیش قدمی شروع کی ہے۔ نامہ نگار کے مطابق میدی میں حکومتی فورسز اورحوثی و علی صالح ملیشیا کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔

عسکری ذرائع کے مطابق عرب اتحادی فوج نے بھی میدی میں باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرکے باغیوں کی تمام سپلائیں لائنیں کاٹ ڈالی ہیں۔

یمنی مزاحمتی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز میدی جنرل اسپتال سے چند میٹر کی دوری پر ہیں۔ اس اسپتال پر اس وقت حوثی باغیوں کا قبضہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں