.

ایران پر بعض پابندیاں 8 سال تک برقرار رہیں گی: برطانیہ

’ایران میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد محتاط رہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ ایران پر عاید بعض اقتصادی پابندیاں اگلے آٹھ سال تک برقرار رہیں گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیاہے کہ ایران کے خلاف عایدکردہ بعض پابندیاں بالخصوص دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی وجہ سے عاید کردہ پاپندیاں قائم رہیں گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی سرمایہ کار جو ایران میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں یہ جاننا ہوگا کہ وہ کس شعبے میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ انہیں ایرانی رجیم سے معاملات طے کرنے میں احتیاط سے کام لینا ہو گا کیونکہ ایران پر بعض اقتصادی پابندیاں مزید آٹھ سال تک قائم رہیں گی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہےکہ ایران میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران میں سرمایہ کاری کے خواہاں افراد اور کمپنیاں پہلے انسانی حقوق کی تنظیموں سے مشاورت کریں۔

ادھر ایران کے مرکزی بنک کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ برطانوی مرکزی بنک نے ایرانی بنکوں کے کھاتے کھولنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ سے بات کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تہران کے جوہری پروگرام پر عالمی معاہدہ طے پائے ایک سال کا عرصہ گذر چکا ہے مگر برطانوی مرکزی بنک ابھی تک ایرانی بنکوں سے لین دین کی اجازت دینے سے انکاری ہے۔ حتیٰ کہ لندن میں ایرانی سفارت کار بھی برطانوی بنک میں اپنے بنک کھاتے نہیں کھول سکتے ہیں۔

بہ ظاہر برطانوی مرکزی بنک کی طرف سے ایران سے لین دین پر پابندی فرروی میں امریکا کی طرف سے ایران کے 30 اداروں اور شخصیات پرعاید کردہ پابندیوں کا حصہ بتائی جاتی ہے۔ امریکا نے ایران کے میزائل پروگرام اور پاسداران انقلاب کی بیرون ملک دہشت گردی کی وجہ سے تیس اداروں اور شخصیات پر پابندیاں عاید کی تھیں۔

فرانس کے مرکزی بنک ’پی این پی‘ کو امریکا کی ایران پر عاید پابندیوں کو نظر انداز کرنے پر 9 ارب ڈالر کا جرمانہ کیا گیا ہے۔ یہ جرمانہ ایران کی دہشت گردی کی حمایت اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی بناء پر کیا گیا۔