.

ترکی کے کرد باغیوں پر فضائی حملوں میں عراقی البیش المرکہ کے 5 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی علاقے میں ترک فضائیہ کے کالعدم گروپ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کے ٹھکانوں پر فضائی حملے میں غلطی سے خود مختار کردستان کی علاقائی فورس البیش المرکہ کے پانچ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

ترک فوج نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے عراق کے علاقے سنجار کے پہاڑی علاقے پر کرد باغیوں کے ٹھکانوں اور شام کے شمال مشرقی علاقے میں علی الصباح فضائی حملے کیے ہیں۔ان کا مقصد کرد باغیوں کو ترکی میں حملوں کے لیے ہتھیار اور دھماکا خیز مواد بھیجنے سے روکنا تھا۔

ترک فوج کا کہنا ہے کہ یہ دونوں علاقے دہشت گردوں کا گڑھ ہیں۔پی کے کے ان علاقوں کو جنگجوؤں ،اسلحے ،ہتھیاروں اور بموں کی ترکی میں منتقلی کے لیے استعمال کررہی ہے۔

ترک فوج نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’ ہمارے ملک اور قوم کی سلامتی ، اتحاد اور سالمیت کے لیے خطرے کا موجب دہشت گردی کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا بین الاقوامی قانون کے تحت ہمیں حق حاصل ہے۔فضائی حملوں میں دہشت گردوں کے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن گذشتہ چند مہینوں سے یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ پی کے کے کے جنگجوؤں نے عراق کے شمال مغربی علاقے سنجار میں اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ترکی اس گروپ کو اس علاقے میں اپنے پاؤں پھیلانے کی اجازت نہیں دے گا۔

ترک فوج نے سرحدی قصبے سیلوپی میں گذشتہ سال نومبر میں ٹینک اور بکتربند گاڑیاں بھیجی تھیں۔اسی وقت عراقی فورسز نے امریکا کی مدد سے شمالی شہر موصل میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف نئی اور فیصلہ کن مہم کا آغاز کیا تھا۔