.

امریکا ،اسلامی سربراہ اجلاس: دہشت گردی مخالف جنگ میں تعاون بڑھانے کا عزم

اجلاس میں 50 سے زیادہ اسلامی اور عرب ممالک کے سربراہان حکومت و مملکت کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے امریکا اور مسلم دنیا کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

شاہ سلمان نے الریاض میں منعقدہ امریکا ، عرب ،اسلامی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کی تمام شکلوں کے خاتمے کے لیے باہمی تعاون کریں گے۔اسلام امن اور رواداری کا دین تھا ،ہے اور رہے گا‘‘۔

اس موقع پر صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ شاہ سلمان ایسے زبردست میزبان کا مہمان بننا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے ۔انھوں نے شاہ عبدالعزیز آل سعود کے ورثے کو جاری رکھا ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ’’ میں امریکا سے محبت کا پیغام لے کر آیا ہوں ،اسی وجہ سے میں نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیا ہے۔ امریکا مشرق وسطیٰ کے خطے اور پوری دنیا میں امن ،سلامتی اور خوش حالی چاہتا ہے‘‘۔

امریکی صدر نے کہا: ’’ یہ خصوصی اجتماع مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں امن کا آغاز بن سکتا ہے۔ہم یہاں لیکچر دینے نہیں آئے ہیں۔ہم یہاں شراکت داری کی پیش کش اور ہم سب کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں آئے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ دنیا کو دہشت گردی کے ہولناک حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن عرب دنیا سے زیادہ اس نے دہشت گردی کا سامنا نہیں کیا ہے۔ یہ مختلف عقیدوں، فرقوں یا تہذیبوں کے درمیان جنگ نہیں ہے بلکہ یہ سفاک دشمنوں کے ساتھ لڑائی ہے‘‘۔

شاہ سلمان نے اس موقع پر دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی بندش کی غرض سے امریکا کے ساتھ ایک سمجھوتا طے پانے کا اعلان کیا۔دونوں رہ نماؤں نے خطے میں ایران کی مداخلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ایرانی رجیم نے خمینی انقلاب کے بعد دہشت گردی کو فروغ دیا ہے‘‘۔

شاہ سلمان نے اس سربراہ اجلاس سے قبل اتوار کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ عرب اسلامی امریکی سمٹ سے دہشت گردی کے خلاف مضبوط عالمی اتحاد تشکیل پائے گا۔انھوں نے اس سربراہ اجلاس میں شریک ہونے والے اپنے ’’ بھائیوں‘‘ اور دوستوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے ہمارے خطے اور پوری دنیا پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔