.

’بن لادن دستاویزات میں القاعدہ، قطر تعلق کا بھانڈہ پھوڑ دیا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست قطر کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت پر سفارتی خاموشی توڑتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دوحہ سرکار کو کھل کر خبردار کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خطے میں قیام امن کی مساعی کے ضمن میں امریکی انتظامیہ بالخصوص امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے اپنے دورہ قطر کے دوران قطری حکام سے بات چیت میں انہیں اخوان المسلمون اور دیگر شدت پسند تحریکوں کی حمایت کرنے پر خبردار کیا۔ انہوں نے دوحہ سے مطالبہ کیا کہ وہ القاعدہ اور داعش کے بارے میں اپنی پالیسی واضح کرے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب قطر پر دہشت گرد تنظیموں کو فنڈز فراہم کرنے یا ان کی سرگرمیوں کی مدد کا الزام عاید ہوا ہے۔ دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں نرم گوشہ قطر کا پرانہ طرز عمل ہے۔ قطری حکومت کی ناک تلے القاعدہ کے سب سے بڑے ڈونر سلیم حسن خلیفہ راشد الکواری نے القاعدہ کو کروڑوں ڈالر کی رقوم منتقل کی تھیں، مگر دوحہ نے اس پرخاموشی اختیار کیے رکھی۔

یاد رہے کہ الکواری کوئی عام شہری نہیں بلکہ قطری حکومت کا ایک اہلکار تھا اور وزارت داخلہ میں ملازم تھا۔

سنہ2011ء کو امریکا نے الکواری کا نام دہشت گردوں کی فنڈنگ کرنے والے ملزمان میں شامل کیا۔ قطری حکومت نے بھی دو بار رسمی سی کارروائی کے دوران اس سے القاعدہ کو رقوم کی منتقلی کے الزام میں تفتیش کی مگر اس پر فرد جرم عاید کرنے کے بجائے ملازمت پر بحال کردیا گیا۔

القاعدہ کی مالی اور لاجسٹک سپورٹ

اکتوبر2014ء کو امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کی جانے والی دستاویزات کہا گیا کہ ء کو امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کی جانے والی دستاویزات کہا گیا کہ 37 سالہ الکواری القاعدہ کی لاجسٹک اور مالی سپورٹ میں ملوث ہے۔ امریکا نے 33 سالہ ایک دوسرے قطری باشندے عبداللہ غانم الخوار کو القاعدہ کو فنڈ فراہم کرنے والے نیٹ ورک میں شامل کیا۔ الخوار پر یہ دہشت گردوں کو سفری سہولیات فراہم کرنے کا بھی الزام عاید کیا گیا۔ اس پر الزام عاید کیا گیا کہ اس نے ایرانی جیلوں میں قید عناصر کی رہائی میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

الکواری اور الخوار کے نام ان مشکوک افراد میں شامل کیے گئے جنہوں نے عرب عسکریت پسندوں اور القاعدہ ارکان کو افغانستان کے سفر کی سہولیات مہیا کرائیں۔

امریکی وزارت خزانہ نے عبدالرحمان بن عمیر النعیمی کو القاعدہ کو 1.25 ملین آسٹریلوی پاؤنڈ کی رقوم عراق میں القاعدہ جنگجوؤں اور تین لاکھ 75 ہزار پاؤنڈ شامی جنگجوؤں کو منتقل کرنے کے الزام میں پابندیاں عاید کی گئیں۔

یہ انکشافات ان دستاویزات میں کیے گئے جو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کے مبینہ کمپاؤنڈ سے اس وقت ملیں جب امریکی سیلر نے شب خون مار کر القاعدہ سربراہ بن لادن کو قتل کردیا تھا۔ ان دستاویزات سے القاعدہ کی حمایت پر مبنی قطری کردار کا پتا چلتا ہے۔

دستاویزات میں القاعدہ سربراہ بن لادن کا ایران میں مقیم اپنی چھوٹی اہلیہ خیریہ صابر اور بیٹے حمزہ کے نام لکھا ایک مکتوب بھی ملا۔ دستاویزات میں کئی دوسرے خطوط بھی شامل ہیں۔ 30 صفر 1432ھ کو اپنی اہلیہ کے نام بن لادن نے لکھا کہ ’آپ نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ وہ آپ کو شام یا قطر لے جانا چاہتے ہیں۔ اس بارے میں محمد اور اس کے بھائی، آپ اور حمزہ کی کیا رائے ہے۔ کیا آپ نے قطر جانے کی درخواست دی ہے۔ اگرآپ نے ایسا کیا تو انہوں نے کیا جواب دیا۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ آپ کو اس سمت میں نکالنا چاہتے ہیں۔ تم توقع رکھتی ہو کہ اس طرح تم میرے پاس آجاؤ گی؟

جہاں عالمی برادری کی طرف سے تک قطر پر شدت پسند گروپوں کی مالی معاونت کا الزام ہے تواس میں بھی صداقت ہے۔ قطر پر الزام عاید کیا جاتا رہا کہ وہ القاعدہ کے عرب اور افغان جنگجوؤں اور طالبان کی فنڈز فراہم کرتا رہا۔ اگر قطرنے سرکاری سطح پر ایسا نہیں کیا تب بھی یہ سب کچھ حکومت کے عمل میں تھا۔ اس کا انکشاف القاعدہ رہ نما خالد شیخ محمد امریکا کے 11 طیاروں کو بحر الکاہل میں تباہ کرنے کے منصوبے میں کیا گیا ہے۔

القاعدہ کی معاونت کے باب میں قطری کردار کی ایک مثال مراکش سے تعلق رکھنے والے القاعدہ کے انتہائی خطرناک دہشت گرد عبدالکریم المجاطی کی اہلیہ فتیحہ المجاطی کو افغانستان بھیجنے کے لیے قطر کا جعلی پاسپورٹ جاری کیا گیا۔ اس کے بعد اسے سعودی عرب سے بنگلہ دیش اور وہاں سے افغانستان پہنچایا گیا۔ اسی طرح القاعدہ کے چوٹی کے جنگجو کمانڈر مراکشی نژاد یونس الحیاری کو بھی قطر کا جعلی پاسپورٹ جاری کیا گیا۔ سعودی عرب میں اس کا نام القاعدہ کے 36 اشتہاریوں میں شامل تھا، اسے مشرقی ریاض میں 2005ء کو الروضہ کالونی میں پولیس کے ساتھ مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔ وہ بوسنیا کا جعلی پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد قطر کے راستے سعودی عرب میں داخل ہوا۔

ابلاغی محاذ میں پیش پیش

القاعدہ ہو، داعش، النصرہ یا کوئی بھی بنیاد پرست عسکری گروپ ہو۔ انہیں کسی نا کسی ابلاغی ادارے کا تعاون بھی حاصل رہا ہے۔ قطری ٹیلی ویژن چینلوں نے النصرہ، القاعدہ رہ نماؤں، اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری اور شام میں النصرہ کے سربراہ الجولانی وغیرہ کے بیانات، پیغامات، انٹرویوز اور ان سے متعلق بلا روک ٹوک خبریں نشر کیں۔ اس پر ڈینس روس کی طرف سے بار بار خبردار بھی کیا جاتا رہا کہ انتہا پسند اپنی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ بالخصوص ٹیلی وی چینلوں کا سہارا لے رہے ہیں۔

حال ہی میں ایک قطری ٹی وی چینل نے النصرہ فرنٹ کے منشور، پیغام اور پروگرام کے بارے میں عبداللہ المحیسنی سے خصوصی انٹرویو کیا گیا۔ المحیسنی کو عبداللہ عزام بریگیڈ کے سربراہ صالح القرعاوی کے بھائی ’یونس‘ کے ساتھ ایک ویڈیو میں دیکھا گیا۔ القرعاوی سعودی عرب میں زیرحراست ہے۔ اس ویڈیو میں المحسینی فدائی حملے کی مبارک باد پیش کررہے ہیں۔

ٹیلی ویژن چینلوں اور القاعدہ کے سربراہ بن لادن کا آپس میں رومانوی تعلق رہا۔ ایبٹ آباد دستاویزات میں بھی اس کا پتا چلتا ہے۔ ایک مکتوب میں بن لادن نے القاعدہ جنگجوؤں کو لکھا ہے کہ وہ اچھے ٹی وی چینلوں کے ساتھ تعلق قائم رکھیں تاکہ ابلاغی میدان میں ہم پیش پیش رہ سکیں۔