قطری شہری کتنے دن میں سعودی عرب ، امارات اور بحرین سے واپس جاسکتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔اس فیصلے کے تحت ان تینوں ممالک نے قطر میں مقیم اپنے شہریوں کو واپس بلا لیا ہے اور قطری شہریوں کو اپنے اپنے ملک سے نکل جانے کی ہدایت کی ہے۔

سعودی مملکت کے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق سعودی شہریوں کو اب قطر کے سفر کی اجازت نہیں ہے۔ وہ نہ تو قطر میں قیام کرسکتے ہیں اور نہ وہاں سے گزر کسی اور ملک میں جاسکتے ہیں۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی (ایس پی اے )کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ بیان کے مطابق ’’مملکت نے اپنی خود مختاری کے تحفظ کی خاطر بین الاقوامی قوانین کے تحت قطر کے ساتھ سفارتی اور قونصلر تعلقات منقطع کیے ہیں۔اس لیے قطر میں مقیم یا وہاں جانے والے سعودی شہری چودہ روز میں وطن لوٹ آئیں‘‘۔

بیان کے مطابق :’’ بدقسمتی سے قطریوں کو سکیورٹی وجوہ کی بنا پر سعودی عرب میں داخل ہونے یا آنے سے روک دیا گیا ہے اور سعودی عرب میں مقیم یا عارضی ویزوں پر یہاں آنے والے قطری شہری چودہ روز میں واپس جاسکتے ہیں‘‘۔

بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ حج اور عمرے کے لیے آنے والے قطری شہریوں کو ہرقسم کی سہولتیں اور خدمات مہیا کی جائیں گی۔

دریں اثناء متحدہ عرب امارات نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قطریوں کو ملک میں داخل ہونے یا یہاں سے گزر کر جانے کی اجازت نہیں ہے۔اس کے علاوہ قطری شہری چودہ روز کے اندر متحدہ عرب امارات سے واپس جاسکتے ہیں۔

بحرین نے بھی اپنے شہریوں پر قطر کے سفر پر جانے اور وہاں قیام کرنے پر پابندی عاید کردی ہے اور قطری شہریوں کو بحرین میں داخل ہونے یا وہاں سے گزرنے سے روک دیا ہے۔

بحرین کی سرکاری خبررساں ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ بحرین میں مقیم یا سیر کے لیے عارضی طور پر آنے والے قطری شہری چودہ روز میں واپس جاسکتے ہیں۔ہمیں اپنے قطری بھائیوں پر اعتماد ہے کہ وہ ان اقدامات کو حفظ ماتقدم کے طور پر لیں گے اور یہ کسی مخالفانہ سرگرمی کی پیشگی روک تھام کے لیے کیے جارہے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں