’سی این این‘ میں ایران نواز مبلغ کا مذہبی پروگرام بند

میزبان رضا اصلان پوری ٹیم سمیت فارغ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک ’سی این این‘ کی جانب سےجاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ادارے نے ’المومن‘ نامی مذہبی پروگرام کے پیش کار ایرانی نژاد امریکی رضا اصلان کے ساتھ معاہدہ ختم کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’ سی این این‘ کا کہنا ہے کہ رضا اصلان امریکا میں ایرانی قومی کونسل ’NIAC‘ کے ساتھ وابستہ ہے اور اس نے اپنے ’ٹوئٹر‘ اکاؤنٹ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹی وی انتظامیہ نے ’مومن‘ پروگرام بند کرتے ہوئے اسکے میزبان اور اس کی ٹیم کو فارغ کردیا ہے۔

خیال رہے کہ رضا اصلان امریکا کی مختلف جامعات میں علم الادیان کے استاد کی حیثیت سے بھی کام کرتے ہیں۔ انہیں امریکا میں ایرانی لابی کی نمائندہ کونسل کے چیئرمین ٹریٹا پارسی کا مقرب سمجھا جاتا ہے۔

اصلان اپنے پروگرام میں ایرانی رجیم کے دفاع اور سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک پر بلا جواز تنقید بھی کرتا رہا ہے۔ جب صدر ٹرمپ نے لندن کے مسلمان میئر صادق خان پر تنقید کی تو اس کے رد عمل میں اصلان نے ’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ ایک بیان میں لکھا کہ ’ٹرمپ امریکا اور انسانیت کے لیے عار ہیں‘ انہوں نے اس کے علاوہ بھی ٹرمپ کے خلاف غیرمناسب الفاظ استعمال کیے ہیں۔

اصلان کا خاندان سنہ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد امریکا منتقل ہوگیا تھا۔ رضا اصلان امریکا میں مختلف ٹی وی چینلوں پر مذہبی پروگراموں کی میزبانی کرتے رہے ہیں۔ ان کا پروگرام ’مومن‘ امریکا میں کافی مشہور ہوا۔ اصلان نے 25 سال کی عمر میں عیسائی مذہب اختیارکیا۔ اس نے واپنی والدہ کو بھی مسیحی مذہب قبول کرنے پرقائل کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے مذہب تبدیل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ بعد ازاں اصلان نے دوبارہ اسلام قبول کرلیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں