.

قطر نے بحرین میں خلیجی پالیسی کے خلاف کیسے سازش کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل نے جمعہ کی شب امیر قطر کے خصوصی مشیر حمد بن خلیفہ عبداللہ العطیہ اور حکومت مخالف بحرینی حسن علی محمد جمعہ سلطان کے درمیان چار فون کالوں پر مشتمل گفتگو کی ریکارڈنگ نشر کی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر بحرین میں کیسے خلیجی ریاستوں کی مشترکہ پالیسی کے برعکس کام کرتا اور اس کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

فون پر اس گفتگو کی ریکارڈنگ کی تاریخ تو دستیاب نہیں ہے لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 2011ء میں اس وقت ہوئی تھی جب چھے رکن ممالک پر مشتمل خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) نے بحرین میں مشترکہ فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جی سی سی نے ’’جزیرہ نما ڈھال فورس‘‘ کے نام سے یہ فوج بحرینی حکومت کی درخواست پر اس کی قومی سلامتی کے دفاع کے لیے بھیجی تھی۔

پہلی ریکارڈنگ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قطر بحرین میں جی سی سی نواز پالیسی کو کیسے اپنے مفاد میں متوازن بنانے کی کوشش کررہا تھا۔ایک جانب تو وہ جی سی سی کے جھنڈے تلے بحرین کی حکومت کی حمایت کررہا تھا اور دوسری جانب وہ پس پردہ بھی کھیل کھیل رہا تھا اور الجزیرہ نیوز چینل کو استعمال کرتے ہوئے مخالفانہ ایجنڈوں کو بھی نشر کررہا تھا۔

بحرینی حکومت کے مخالف حسن علی محمد جمعہ سلطان کو پہلی ریکارڈنگ میں امیر قطر کے خصوصی مشیر حمد بن خلیفہ عبداللہ العطیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’’ مظاہرین (جی سی سی) کی فورسز کو قابض فوج سمجھ رہے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ بحرین نے حسن علی جمعہ سلطان کی سنہ 20015ء میں شہریت منسوخ کردی تھی۔اس کے بعد وہ بھاگ کر لبنان چلے گئے تھے اور وہاں سے عراق چلے گئے تھے۔اب وہ ان دونوں ملکوں ہی میں کہیں رہ رہے ہیں۔

حسن سلطان کی مذکورہ بات کے جواب میں عطیہ کہتے ہیں:’’ آپ جو کچھ رہے ہیں،اس معاملے میں ،میں آپ کے ساتھ ہوں۔مجھے یہ بات تو نہیں کہنی چاہیے کیونکہ آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ قطر میں ہمارے (بحرین میں جزیرہ نما ڈھال فورس کی موجودگی کے بارے میں) کچھ تحفظات ہیں‘‘۔

پھر عطیہ نے کہا:’’ قطر اپنے جی سی سی کے بھائیوں کے خلاف تو نہیں جاسکتا مگروہ ڈھال فورس میں شرکت کو مسترد کرتا ہے۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں۔جزیرہ نما ڈھال فورس کے قانون تحت تمام رکن ممالک کی اس میں شرکت ضروری ہے۔ہم پر ہمارا اپنا ہی اس فورس میں شرکت نہ کرنے کے لیے دباؤ تھا‘‘۔

پھر عطیہ نے یہ بھی کہا کہ ’’اگر صورت حال میں مزید پیش رفت ہوتی ہے تو وہ ذاتی طور پر سلطان یا ’’شیخ عیسیٰ‘‘ سے ملاقات کریں گے‘‘۔ یہ شیخ عیسیٰ قاسم بحرین کی حزب اختلاف کے ایک رہ نما ہیں۔ان کی بھی بحرینی شہریت 2016ء میں ختم کردی گئی تھی اور اب ان کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

دوسری فون ریکارڈنگ میں حمد بن خلیفہ العطیہ بحرین میں جو کچھ رونما ہورہا تھا ،اس کے بارے میں استفسار کررہے ہیں۔تیسری ر یکارڈنگ میں وہ حسن سلطان سے یہ کہہ رہے ہیں کہ کیا وہ کسی ایسے شخص کا نام تجویز کرسکتے ہیں جو الجزیرہ نیوز چینل پر نمودار ہو کر بحرین کی صورت حال کے بارے میں گفتگو کرے۔ وہ سلطان سے یہ بھی کہتے ہیں:’’ ہم درست معلومات کے لیے تعاون چاہتے ہیں‘‘۔

چوتھی ریکارڈنگ میں جمعہ سلطان ایک بحرینی صحافی طاہر الموساوی کا نام تجویز کرتے ہیں جو ان کے بہ قول الجزیرہ کو درکار تمام معلومات فراہم کریں گے۔


ٹیلی فون پر گفتگو کی تفصیل

امیر قطر کے خصوصی مشیر حمد بن خلیفہ عبداللہ العطیہ اور بحرین کی وفاق پارٹی کے سابق رکن پارلیمان حسن سلطان کے درمیان مارچ 2011ء میں ٹیلی فون پر چار مرتبہ جو گفتگو ہوئی ، اس کی ریکارڈنگ کی تفصیل ذیل میں دی جارہی ہے۔

پہلا ٹیلی فونک مکالمہ

حسن سلطان : السلام علیکم
پی اے : السلام علیکم
حمد العطیہ : وعلیکم السلام ۔ دو پہر بخیر یا شیخ ۔
پی اے: صرف ایک منٹ میں شیخ کو موبائل دے رہا ہوں۔
حمد العطیہ : بالکل دیجیے۔
حسن سلطان : شیخ میں فون پر ہوں۔السلام علیکم ۔
حمد العطیہ : وعلیکم السلام الشیخ ۔
حسن سلطان: رسمی خیر مقدمی کلمات، ابو خلیفہ
حمد العطیہ: معذرت چاہتا ہوں میں نے آپ کو دوسرے نمبر پر فون کیا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔
حسن سلطان: بو خلیفہ، آپ حکم کیجیے، میں ہمہ تن گوش ہوں۔

حمد العطیہ : اللہ نہ کرے کوئی دشمن آپ کو حکم دے۔ جزیزہ نما شیلڈفورس سے متعلق میں نے پوچھا تھا اس میں قطر کی شرکت نہیں تھی۔ اس کے ضمنی قوانین کے مطابق اس میں دو قطری افسربطور مبصر شامل تھے۔ اس مرتبہ ہم نے فوجی شرکت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
حسن سلطان:جی جاں، تاہم قطر کے دو افسر اس میں شامل ہیں۔
حمد العطیہ : جی ہاں، دو قطری افسرموجود ہیں اور ہمیں یہ بات ماننا پڑے گی۔
حسن سلطان: جناب ابو خلفہت، اس وقت لوگ ان فوجوں کو قابض سمجھتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس کا ادراک کریں گے۔

حمد العطیہ : حضور والا، آپ جو کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک ہے لیکن قطر آپ سے برادرانہ تعلقات کی بنا پر اس سے متعلق تحفظات رکھتا ہے۔ جزیرہ نما شیلڈ فورس کے قوانین میں یہ بات درج ہے کہ ہم اس میں شریک ہوں۔ ہم نے کوشش کی کہ ایسی صورت حال پیدا نہ ہو کہ جس میں ہمیں فوج یا فضائیہ کو بھیجنا پڑے۔

حسن سلطان: جناب، جناب، مجھے ضمنی قوانین کا مکمل علم نہیں لیکن آج کویتی پارلیمان میں کوئی مسئلہ ہے۔ ایوان، اس معاملے پر حکومت سے بات ضرور کرے گا۔
حمد العطیہ : شیخ، میں آپ کی بات مانتا ہوں کہ یہ ایک معاہدہ ہے، لیکن مجھے بتائیں کہ آپ وزیر اعظم کے سفر سے پہلے انہیں کیا پیغام دینا چاہتے ہیں، یا پھر اگر آپ کہیں تو میں کچھ دیر بعد دوبارہ کال کر لیتا ہوں۔

حسن سلطان: ابو خلیفہ، مجھے آدھا پون گھنٹا دیں کیونکہ آپ کو پتا ہے کہ یہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اپوزیشن اجلاس پر اجلاس کر رہی ہے۔ ذیلی ایوان کا بھی اجلاس جاری ہے۔ اسے کچھ رخ دینا ہو گا، اگر ایسا کچھ ہو سکا تو ابو خلیفہ میں آپ کو فون کرتا ہوں۔
حمد العطیہ : میں کسی بھی لمحے آپ کے فون کا منتظر ہوں گا۔

حسن سلطان: آپ کا شکریہ۔ آپ کا شکریہ
حمد العطیہ : اگر وزیر اعظم اور سعود الفیصل کی شاہ کے ساتھ کل ملاقات کا کچھ نتیجہ نکلا تو میں آپ مطلع کروں گا۔ شاہ اور حکومت کے درمیان کچھ طے پایا اور اگر ضرورت پڑی تو آپ یا شیخ عیسیٰ (قاسم) سے مل لوں گا۔

حسن سلطان: یہ اعزاز کی بات ہو گی، ابو خلیفہ۔ آپ جس سے بھی ملنا چاہیں اور جو بھی آپ کے لیے ممکن الحصول ہو، خواہ مجھے یا وزیر اعظم کو، ضرور ملنے آئیں۔

حمد العطیہ : آپ یا عزت مآب شیخ حمد کی موجودگی ہمارے لیے باعث افتخار ہوگی، ہم ہر خدمت کے لیے تیار ہیں۔ یہ ملک آپ کا ہے۔آپ ہمارے مہمان ہیں اور یہ آپ کی سرزمین ہے۔

حسن سلطان: یقینا، اس میں شک والی کوئی بات نہیں۔ شیخ عیسیٰ کو میرا سلام کہیے گا۔

دوسرا ٹیلی فونک مکالمہ

حمد العطیہ : السلام علیکم شیخ۔
حسن سلطان: ابو خلیفہ، آپ کا کیا حال ہے؟ اللہ آپ کی عمر دراز کریں۔ یقیناً آپ ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

حمد العطیہ : جی بالکل

حسن سلطان: ابو خلیفہ میں آپ کی اس درخواست کی روشنی میں مخاطب ہوں جس میں آپ نے خواہش ظاہر کی تھی کہ پولیس فورس اور ایمرجنسی کے اعلان سے متعلق نئی پیش رفت سے آپ کو آگاہ کیا جائے۔ ہمیں خونریزی کی توقع کررہے ہیں۔

حمد العطیہ : جی ہاں، میں یہ خبر فوری الجزیرہ پر نشر کرتا ہوں۔ ہمیں اس خبر کو فوری نشر کرنے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

حسن سلطان: ہمارا پیغام یہ ہے کہ آج جو کچھ ہوا ،وہ خلیجی ریاستوں کے تعاون سے ہوا۔

حمد العطیہ : میں جاننا چاہتا ہوں کہ کن دیہات کو مسائل کا سامنا ہے۔

حسن سلطان: اس وقت تمام دیہات مشکل کا شکار ہیں۔ بحرین میں شیعوں کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ ہم نے اس معاملے کو نجف، قُم اور لبنان میں اپنی دینی قیادت کے سامنے رکھا ہے۔ بات بہت بڑھ گئی ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں کسی قسم کا سیاسی تحفظ نہیں۔ الخلافہ ریپ جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔

حمد العطیہ : او کے، میرا سوال یہ ہے کہ یہ دوپہر کا وقت ہے کیا اس وقت ٹھگوں کا راج ہے یا پھر فوج اور پولیس پھر رہی ہے، اصل صورت حال کیا ہے؟

حسن سلطان: سیکورٹی فورسز ٹھگوں کی شکل میں راج کر رہی ہیں اور وہ سادہ کپڑوں میں ملبوس اسلحہ اٹھائے قصبات میں مٹر گشت کر رہے ہیں۔ ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد، فوج تعینات کر دی گئی ہے۔ یہ سب میرے سامنے ہو رہا ہے۔ میں ہیڈ کوارٹرز میں کھڑا سب دیکھ رہا ہوں۔ سیکیورٹی فورسز بھی یہی کچھ کر رہی ہیں۔

حمد العطیہ : الجزیرہ کے لیے میں کس سے رابطہ کر کے میں اس سے متعلق معلومات لے سکتا ہوں؟
حسن سلطان: آں آں ۔۔۔۔۔۔
حمد العطیہ : کیا میں ان سے کہوں کہ وہ آپ سے رابطہ کر لیں اور کوئی فرضی نام استعمال کر لیں؟
حسن سلطان: کوئی بات نہیں، ابوخلیفہ میں دو منٹ میں کام کرتا ہوں۔

حمد العطیہ : چند منٹ بعد مجھ سے دوبارہ رابطہ کر لیں۔

حسن سلطان، فورا ًہی میں آپ سے رابطہ کرتا ہوں۔

تیسرا ٹیلی فونک مکالمہ

حسن سلطان: سلام ابو خلیفہ
حمد العطیہ: ہیلو
حسن سلطان : رکن اسمبلی خلیل المرزوق، ایوان نمائندگان کا رکن الجزیرہ سے بات کر سکتا ہے، ہاں اگر آپ کو کوئی اور چاہےا تو وہ بھی۔ تاہم ترجیحاً اسی سے بات کریں۔ اس وقت وہ امریکی سفارت خانے میں ایک اجلاس میں ہے، اس لےب آپ کا فی الوقت ان سے رابطہ ممکن نہیں ہو گا۔ اس کا نمبر نوٹ کر لیں۔
حمد العطیہ : اس کا رابطہ نمبر کیا ہے؟
حسن سلطان: 36xxxxxx
حمد العطیہ : دیکھیں، ہم ایک مختلف پوزیشن اختیار کریں گے، ہمیں کوئی باک نہیں۔ تاہم تعاون چاہتے ہیں، ٹھوس معلومات اور تفصیلات۔ ہم لوگوں کے سامنے آ کر یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ ہم نے کوئی فیصلہ جلد بازی میں کیا۔
حسن سلطان: فکر نہ کریں۔
حمد العطیہ : ہم نے کہا ہے کہ ہر بات کا تاریخ کے ساتھ دستاویزی ثبوت تیار کیا جائے۔
حسن سلطان : ہم تیار ہیں۔
حمد العطیہ : میں یہ سب آپ کے توسط سے کرتا رہوں گا۔ میں کچھ دیر بعد رابطہ کرتا ہوں۔

چوتھا ٹیلی فونک مکالمہ

حسن سلطان: سلام ابو خلیفہ
حمد العطیہ : ہیلو
حسن سلطان : اس شخص کا نمبر لے لیں جو آپ کو مکمل تفصیل اور معلومات فراہم کرے گا۔ آپ اس کا نمبر نوٹ کر لیں تاکہ تفصیلات حاصل کر سکیں۔ ویسے آپ چینل کے لیے بھی اس سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ وہ فوری تفصیلات اور فوٹیج فراہم کرسکتا ہے۔نمبر یہ ہے: xxxxxxx3

حمد العطیہ : فون نمبر کے آخر میں 96 ہی آتا ہے، اوہ یہ نمبر کنٹری کوڈ کے بغیر ہے۔ کنٹری کوڈ 973 ہے، جو پہلے میرے پاس ہے۔
حسن سلطان : جی، اس کا نام سید طاہر ہے۔
حمد العطیہ : کیا اسے سیف یا خلیل کہہ کر بلا سکتے ہیں؟
حسن سلطان : طاہر الموساوی کو ابھی فون کریں۔
حسن علی: سیف طاہر؟
حسن شیخ: سید طاہر الموساوی۔ وہ صحافی ہے اور وہ بالکل درست معلومات دے سکتا ہے۔
حمد العطیہ : او کے، میں آپ کو اپنی حکمت عملی بتاؤں گا۔
حسن سلطان: آپ کا شکریہ
حمد العطیہ : بائی