.

اسرائیل، الاقصی کشیدگی کی آڑ میں القدس کی شناخت تبدیل کر سکتا ہے‘‘

مصر کی تاریخی جامعہ الازھر کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں نماز پر پابندی کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سب سے بڑی دینی درس گاہ جامعہ الازھر نے گزشتہ روز بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ میں پیش آئے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل موجودہ کشیدگی کو فلسطین میں توسیع پسندی اور یہودی آباد کاری بڑھانے کے لیے ایک جواز کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جامعہ الازھر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں اسرائیلی پولیس نے ہاتھوں مفتی اعظم القدس کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے الاقصیٰ میں نماز جمعہ پر پابندی کو مذہبی غنڈہ گردی قرار دیا۔

خیال رہے کہ کل جمعہ کو مسجد اقصیٰ میں دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے الزام میں تین فلسطینی نوجوانوں کو گولیاں مار کر شہید کر دیا تھا۔ قابض فوج اور پولیس نے براہ راست وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی ہدایت پر مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کی ادائی پرغیر معینہ مدت تک کے لیے پابندی عاید کردی تھی جس کے بعد القدس میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اسرائیلی پولیس نے مفتی اعظم القدس الشیک محمد حسین، مسجد اقصیٰ کے خطیب اور سابق مفتی اعظم الشیخ عکرمہ صبری اور کئی دوسری سرکردہ شخصیات کو حراست میں لے لیا تھا تاہم بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔

جامعہ الازھر نے الاقصیٰ میں پیش آنے والے واقعے پراپنے رد عمل میں کہا ہے کہ مسلمانوں کے قبلہ اول میں گذشتہ روز پیش آنے والے واقعات انسانیت، مسلمانوں اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جرائم کے تسلسل کا حصہ ہے۔ صہیونی افواج انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے مقدس مذہبی مقامات کی کھلے عام بے حرمتی کررہی ہے۔

جامعہ الازھر نے خبردار کیا کہ صہیونی ریاست موجودہ کشیدگی کی آڑ میں فلسطین میں یہودی آباد کاری اور توسیع پسندی کے مذموم عزائم کو آگے بڑھا سکتی ہے۔