.

زندگی کے ابتدائی قدم اٹھانے کے بعد ٹانگ سے محروم ہو جانے والا بچّہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ماں کے لیے یہ منظر دیکھنا کتنا دل خراش ہوگا کہ اس کا ننھا بیٹا چلنے کے لیے ابتدائی قدم اٹھائے اور پھر چند ہی گھنٹوں بعد یہ پھول سا بچہ آپریشن کے ذریعے اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہو جائے۔

برطانیہ میں Royal Manchester Children’s Hospital میں سوا سالہ بچے اولیور پرائس کی 26 سالہ ماں ہیلی کے مطابق وہ اس وقت کو کبھی نہیں بھلا سکتی جب اس نے اپنے بچے کو آپریشن سے قبل ہسپتال کی راہ داری میں چلانے کے لیے دھکیلا تھا۔

اولیور پرائس کی وڈیو بنائے جانے کے کچھ دیر بعد ہی اسے آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا جہاں 4 گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن میں اولیور کی بائیں پنڈلی کو کاٹ کر علاحدہ کر دیا گیا۔

اولیور کی پنڈلی ایک نادر قسم کی رسولی کے سبب شدید طور پر متاثر ہو گئی تھی۔ اس رسولی کا سائنسی نام plexiform schwannoma ہے۔

ہیلی اور اس کا 29 سالہ شوہر ان دنوں لوگوں کو اپنے بیٹے کے بارے میں بتانے کی مہم میں مصروف ہیں تا کہ دیگر والدین کی آگاہی کی سطح کو بلند کیا جائے اور وہ بچوں کے اندر کسی بھی غیر معمولی چیز یا کسی خرابی کو ہر گز نظر انداز نہ کریں۔

اولیور کے والدین برطانیہ کے شمال مغربی شہر وِنسفورڈ میں رہتے ہیں۔ ہیلی کا کہنا ہے مارچ 2016 میں اولیور کی پیدائش پر اس کی بائیں پنڈلی پر ایک چھوٹا سا سرخ داغ تھا۔ جب بھی وہ کسی ڈاکٹر کے پاس جاتی تو اسے یہ ہی کہا جاتا کہ تشویش کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ امراض جلد کے ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک پیدائشی نشان ہے۔ بعد ازاں یہ نشانات بڑھنا شروع ہو گئے اور بالآخر والدین کو روئل مانچسٹر ہسپتال میں ایک اچھا معالج مل گیا۔ تفصیلی معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ بچے کی ٹانگ میں غیر سرطانی رسولی ہے تاہم یہ ایک نادر حالت تھی اور اس معائنے کے نتیجے کو مزید مشاورت کے لیے امریکا بھیجنا نا گزیر تھا۔

اولیور کی بائیں پنڈلی میں نیچے کی جانب مذکورہ رسولی کے بڑھنے کے علاوہ اس کے گھٹنے کے پیچھے بھی ایک رسولی نمودار ہو گئی جس کو رواں سال جنوری میں نکال دیا گیا تھا تاہم چند ہفتوں بعد وہ دوبارہ ظاہر ہو گئی۔ اس کے اگلے ہی ماہ اولیور کی پٹیاں تبدیل کرانے کے موقع پر اس کے والدین کو یہ قیامت خیز خبر ملی کہ اس کی ٹانگ میں درحقیقت دو رسولیاں تھیں جن میں سے ایک اس کی پنڈلی کی ہڈی کو لپیٹ میں لے چکی ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس حالت کا علاج ممکن نہیں اور فوری طور پر اولیور کی بائیں ٹانگ کو آدھی ران تک کاٹنے کی ضرورت ہے۔

آپریشن کی تاریخ رواں برس 2 جون مقرر کی گئی۔ ہیلی کی مطابق آپریشن کے چند روز بعد اس نے دیکھا کہ اولیور اپنی متاثرہ پنڈلی کو چُھو کر کچھ محسوس کر رہا ہے۔ ایسا لگا گویا کہ اسے اپنی ٹانگ کے حوالے سے کچھ بدل جانے کا احساس ہو رہا تھا۔

اولیور اب پنڈلی کاٹے جانے کے اثرات سے باہر آ رہا ہے اور توقع ہے کہ ستمبر میں اس کے جسم میں ایک عارضی مصنوعی پنڈلی لگا دی جائے گی۔ ہیلی کا کہنا ہے کہ جب اولیور کی عمر تین سال کے قریب پہنچنے گی یا اس کا قد ایک مقررہ اونچائی تک آئے گا تو اسے گھٹنے کے جوڑ کے ساتھ ایک مصنوعی ٹانگ لگانا ممکن ہو گا تا کہ وہ بہتر طریقے سے حرکت کر سکے۔

تاہم افسوس ناک بات یہ ہے کہ اولیور کے والدین کو بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں ان کے بیٹے کے جسم میں نئی رسولیوں کے بننے کا امکان ہے۔ اس کے سبب آئندہ برسوں میں اولیور کو مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت پڑے گی تا کہ صورت حال کی خرابی کو جتنا جلد ممکن ہو دور کیا جا سکے۔