امریکا کی نئی پابندیاں،ایران ترکی بہ ترکی جواب دے گا: روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزیوں اور نئی پابندیوں کا ترکی بہ ترکی جواب دیا جائے گا۔

ایرانی صدر نے بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ اگر دشمن جوہری معاہدے کے کسی حصے کے بارے میں کوئی اقدام کرے گا تو ہم بھی ایسا کریں گے۔اگر وہ تمام معاہدے پر اقدامات کرے گا تو ہم بھی ایسا کریں گے‘‘۔

صدر حسن روحانی نے اس عزم کا اظہار کیا ہےکہ ’’ ہمیں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو ہمیشہ ترقی دینی چاہیے اور ہم دوسروں کی آراء سے قطع نظر اپنے دفاعی ہتھیاروں کو مضبوط بنائیں گے‘‘۔

انھوں نے یہ بیان امریکی ایوان نمائندگان میں ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے بل کی منظوری کے بعد جاری کیا ہے۔ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ امور کمیٹی نے بھی اس معاملے پر غور کے لیے ہفتے کے روز اپنا اجلاس طلب کیا ہے۔

ایرانی پارلیمان نے اسی ماہ جون میں متعارف کرائے گئے ایک بل کی منظوری دی تھی۔اس کے تحت ایران کے میزائل پروگرام اور پاسداران انقلاب کے لیے فنڈز میں اضافہ کیا جائے گا۔

امریکی ایوان نمائندگان نے پاسداران انقلاب ایران کے علاوہ روس اور شمالی کوریا پر بھی نئی پابندیاں عاید کرنے کے لیے منگل کے روز نئے بل کی منظوری دی ہے۔ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ یہ بل اگر امریکا کی سابقہ پابندیوں ہی کا مجموعہ ہے تو پھر بھی یہ واضح طور پر ایک مخالفانہ اقدام ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’پابندیوں کا نیا بل جوہری معاہدے کے کامیاب نفاذ پر اثر انداز ہوسکتا ہے اور اس سے ایران کو ملنے والے فوائد کم ہوسکتے ہیں۔یہ امریکا کی معاہدے کی مختلف شقوں پر عمل پیرا ہونے کے لیے ذمے داریوں سے بھی کوئی لگا نہیں کھاتا ہے‘‘۔

درایں اثناء حزب اختلاف کی قومی کونسل برائے مزاحمت ایران (این سی آر آئی) کے سیکریٹریٹ نے ملک کے مذہبی رجیم پر نئی پابندیوں اور پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کا خیر مقدم کیا ہے اور اس کو درست سمت کی جانب قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی دوسرے اقدامات کے ذریعے تکمیل کی جانا چاہیے۔

اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاسداران انقلاب اور اس کی آلہ کار ملیشیاؤں کو شام اور عراق سے نکالا جانا چاہیےاور ایرانی عوام کا ملاؤں کے رجیم کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کا حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔

بیان کے مطابق پاسداران انقلاب ایران پر تو بہت عرصہ پہلے پابندیاں عاید کی جانی چاہیے تھیں کیونکہ وہی ایران میں فاشسٹ مذہبی حکومت کا تمام اقتدار برقرار رکھنے ،ملک میں جبرواستبداد ، دہشت گردی اور انتہا پسندی کی برآمد اور جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں سمیت وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول کے ذمے دار ہیں‘‘۔

اس کا کہنا ہے کہ’’ گذشتہ اٹھائیس سال کے دوران میں ایرانی رجیم کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ایرانی عوام کی دولت اور وسائل کا ایک بڑا حصہ پاسداران انقلااب کے لیے مختص کیا ہے اور اس طرح انھیں ایرانی معیشت کے ایک بڑے حصے کو ہتھیانے کے قابل بنا دیا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں