.

لندن ہائی کورٹ: ٹونی بلیئر کے خلاف عراق جنگ پر مقدمہ چلانے کی درخواست مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی ایک اعلیٰ عدالت نے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے خلاف عراق پر 2003ء میں جنگ مسلط کرنے کے الزام میں مقدمہ چلانے کے لیے دائر کردہ درخواست مسترد کردی ہے۔

یہ درخواست عراق کے ایک سابق جنرل عبدالوحید شنان الرباط نے دائر کی تھی۔انھوں نے ٹونی بلیئر کے علاوہ ان کے دو سابق وزراء کے خلاف بھی عراق پر جارحیت کے الزام میں مقدمہ چلانے کی استدعا کی تھی۔

لیکن لندن کی ہائی کورٹ نے سوموار کے روز ایک ماتحت عدالت کے حکم پر عدالتی نظر ثانی کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی بنیاد پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا کیونکہ برطانیہ اور ویلز کے قانون میں یہ کوئی جرم ہے اور نہ اس طرح کے کسی جرم کی کوئی سزا مقرر ہے۔

عراقی جنرل کے وکلاء نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ گذشتہ سال نومبر میں عدالت کا فیصلہ ایک غلط اصول کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔اس لیے سپریم کورٹ کو اس پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

لیکن ہائی کورٹ کے دو سینیر ججوں نے ان کے دلائل کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے نزدیک سپریم کورٹ میں اس مقدمے میں کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔اس لیے عدالتی نظرثانی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

جارحیت کا جرم

تاہم جج صاحبان نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت جارحیت کے جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے لیکن ملکی قانون کے تحت ایسا کوئی جرم وجود نہیں رکھتا۔اس لیے ملکی عدالتوں میں اس طرح کے جرم پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا۔

ٹونی بلیئر اور ان کے دو سابق معاونین سابق وزیر خارجہ جیک سٹرا اور سابق اٹارنی جنرل پیٹر گولڈ اسمتھ نے اس مقدمے کی کارروائی میں کوئی حصہ نہیں لیا ہے۔

واضح رہے کہ ٹونی بلیئر کو سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی حمایت میں عراق جنگ میں کودنے کے غیر مقبول فیصلے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور ان کی برطانوی شہریوں میں شہرت بری طرح مجروح ہوئی تھی اور عراق جنگ کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے بھی یہ قرار دیا تھا کہ سابق وزیراعظم نے تنازع کو پرامن طریقے سے طے کرنے کے لیے تمام ذرائع اور وسائل کو بروئے لانے سے پہلے ہی صدام حسین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق ٹونی بلیئر نے مارچ 2003ء میں عراق پر چڑھائی سے آٹھ ماہ قبل امریکی صدر بش کو یہ یقین دلا دیا تھا کہ ’’جو کچھ بھی ہو ،میں آپ کے ساتھ ہوں گا‘‘۔ چنانچہ انھوں نے صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے لیے برپا کردہ اس جنگ میں شرکت کے لیے پینتالیس ہزار برطانوی فوجی بھیجے تھے۔

مذکورہ تحقیقاتی رپورٹ کی اشاعت کے بعد ٹونی بلیئر نے کسی قسم کی ندامت کا اظہار کرنے کے بجائے یہ کہا تھا کہ ’’ میں نے اس ملک کو گم راہ نہیں کیا ہے۔( جنگ کے وقت) کوئی جھوٹ نہیں بولا گیا تھا اور نہ کسی کو دھوکا دیا گیا تھا۔