.

قطر بعض غیر ملکیوں کو مستقل اقامتی کارڈ دے گا: کابینہ میں بل منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی کابینہ نے جمعرات کے روز بعض غیر ملکیوں کو مستقل اقامتی کارڈ زکے اجراء کے لیے ایک بل کی منظوری دے دی ہے۔

قطری کابینہ نے یہ فیصلہ چار عرب ممالک کے بائیکاٹ سے پید ا ہونے والی غیر یقینی صورت حال کے پیش نظر کیا ہے کیونکہ بہت سے غیرملکی اس خلیجی ریاست سے واپسی کی تیاری کررہے ہیں اور بعض جا بھی چکے ہیں۔اب قطری حکومت یہ چاہتی ہے کہ پیشہ ور انہ اور بنیادی خدمات کے شعبوں میں کام کرنے والے غیرملکی ملک چھوڑ کر نہ جائیں۔

قطر کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے کابینہ کے منظور کردہ اس بل کی تفصیل جاری نہیں کی ہے لیکن اس کے حوالے سے دستیاب معلومات کے مطابق جن غیر ملکیوں کو مستقل اقامتی کارڈ جاری کیے جائیں گے،انھیں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں قطریوں ایسی ہی سہولتیں حاصل ہوں گی ۔نیز انھیں قطریوں کے بعد فوج اور سول محکموں میں ملازمتوں میں بھی ترجیح دی جائے گی۔

کابینہ کے اس فیصلے سے قبل یہ نئی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ قطری شہریوں کو نقد رقوم یا غیر ملکی کرنسی کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے اور وہ جاری بحران سے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔وہ اپنی جمع پونجی کا کسی دوسری کرنسی کے ساتھ تبادلہ کرسکتے ہیں اور نہ اس کو کہیں اور منتقل کرسکتے ہیں۔

تاہم بعض مبصرین کی رائے ہے کہ قطر کے اس اقدام کا مقصد خلیجی عرب ممالک کے ساتھ جاری بحران میں عالمی حمایت حاصل کرنا ہے۔ واشنگٹن کے مرکز برائے تزویراتی اور بین الاقوامی مطالعات سے وابستہ ایک تجزیہ کار انتھونی کارڈزمین کا کہنا ہے کہ’’ قطر کا یہ قانون شب بھر میں ہی موثر ہونے نہیں جارہا ہے۔ہمیں اس نئے قانون کے نفاذ کو دیکھنا اور انتظار کرنا ہوگا‘‘۔

بلومبرگ ایجنسی کے مطابق قطر اس اقدام سے یہ بھی ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی خلیجی عرب ممالک کے مقابلے میں غیر ملکیوں کے لیے ایک مختلف ملک ہے اور اس کے ہاں معیار پر پورا اترنے والے غیر ملکیوں کے لیے بھرپور مواقع موجود ہیں حالانکہ اس کو 2022ء میں فٹ بال عالمی کپ کے انعقاد کے لیے اسٹیڈیم اورکھیل کے میدانوں کے تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے ایشیائی ورکروں سے کٹھن حالات میں کام لینے پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ واضح رہے کہ شدید گرم موسم میں دن رات کام کرنے والے بارہ سو سے زیادہ ایشائی مزدور جان کی بازی ہا ر چکے ہیں۔