لبنانی خاتون لیکچرار کوملازمت سے ہٹانے کی وجہ سامنے آگئی
منیٰ بعلبکی کو رفیق حریری اسپتال سے2009ء میں نکال دیا گیا تھا
گذشتہ روز سعودی عرب کی ایک یونیورسٹی میں متنازع لبنانی خاتون لیکچرار کے خلاف تحقیقات کے بعد لبنان میں اسے ملازمت سے ہٹائے جانے کی وجہ بھی سامنے آگئی ہے۔
لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب کی سرحدی یونیورسٹی میں بہ وزٹنگ پروفیسر تعینات کی گئی لبنانی خاتون کو 2009ء میں بیروت میں قائم رفیق الحریری اسپتال میں ملازمت سے ہٹا دیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق منیٰ بعلبکی کے خلاف رفیق حریری اسپتال انتظامیہ کی طرف سے 2009ء میں اس وقت کارروائی کی گئی تھی جب اس پر مریضوں کی زندگیوں خطرے میں ڈالنے کی سازشیں کرنے، انتظامی اور مالی بدعنوانی اور دیگر خلاف قانون سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد ملے تھے۔ اس کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز دو ہزار نو سے ہوا جس کے بعد 2014ء میں اسے ملازمت سے مکمل طور پر نکال دیا گیا تھا۔
رفیق الحریری اسپتال کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ منیٰ بعلبکی اسپتال میں ڈسپنسری کے شعبے کی انچارج تھی اور اس پرمالی اور انتظامی بدعنوانی سمیت کئی دوسرے الزامات بھی عاید کیے گئے تھے۔
خیال رہے کہ دو روز قبل سعودی عرب کے شمالی علاقوں کے گورنر شہزادہ فیصل بن خالد بن سلطان بن عبدالعزیز نے تنازع کا باعث بننے والی لبنانی خاتون لیکچرار کو ملازمت سے ہٹانے اور یونیورسٹی کی جانب سے اس کے تقرر کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
شہزادہ فیصل بن خالد نے یہ حکم اس وقت دیا جب منیٰ بعلبکی کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں آئیں کہ وہ اپنے ملک میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے۔
شمالی سرحدی یونیورسٹی کی جانب سے منیٰ بعلبکی کو ملازمت سے ہٹانے کے بعد اس کی تقرری کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے جو ایک ہفتے میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔