.

ایران: موگرینی کے ساتھ سیلفی کے حصول کا شرمناک مظاہرہ

خواتین سے کنارہ کش رہنے والے ایرانی سیاسی چغادری بے نقاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ولایت فقیہ کےسیاسی اور مذہبی نظام کے تحت مرد ارکان پارلیمان عموما خواتین سے دور رہتے ہیں۔ مگر دو روز قبل یورپی یونین کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فیڈریکا موگرینی کے ساتھ تہران میں جو تماشا ہوا اس نے ایرانی سیاسی چغادریوں اور نام نہاد ’دینداروں‘ کو بری طرح بے نقاب کردیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر آنے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایران ارکان شوریٰ [پارلیمنٹ] یورپی یونین کی خاتون مندوبہ کے ساتھ سیلفی بنانے کے لیے لپکے پڑے ہیں۔ ہر رکن مسز موگرینی کے ساتھ سیلفی بنانے کے لیے دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس موقع پر سر ڈھانپے کھڑی فیڈریکا موگرینی ہکا بکا دکھائی دیتی ہیں۔

ایرانی ارکان پارلیمان نے اس شرمناک مظاہرے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جہاں سماجی کارکنان ایرانی سیاست دانوں کو کڑی تنقید اور لعن طعن کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری بحث میں ارکان شوریٰ کی جانب سے ایک غیرملکی خاتون کے ساتھ سیلفی کا شوق پورا کرنے کو ‘شرمناک‘ قرار دیا ہے۔

اصلاح پسندوں کی مقرب ویب سائیٹ ’جہان اقتصاد‘ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہمارے ’معزز‘ ارکان پارلیمان فیڈریکا موگرینی کے ساتھ سیلفی کا شوق پورا کرنے کے لیے قطار میں لگے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی سیاست دانوں کے طرز عمل سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ایرانی قوم کے نمائندہ نہیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر مسز موگرینی کے ساتھ سیلفی بنوانے کے مظاہرے کی حمایت بھی کی جا رہی ہے۔ تہران کے ایک رکن شوریٰ کا کہنا ہے کہ فیڈریکا موگرینی کے ساتھ سیلفی بنانا عام سی بات ہے۔

خیال رہے کہ فیڈریکا موگرینی یورپی یونین کی انسانی حقوق ہائی کمشنر ہیں۔ انہوں نے دو روز قبل تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی کی دوسری مرتبہ تقریب حلف برداری میں شرکت کی تھی۔