نیوکلیئر معاہدے سے انحراف، ایران کو شدید حالات کا سامنا کرنا ہو گا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران اور چھ بڑے ممالک کے درمیان طے پائے جانے والے نیوکلیئر معاہدے کو ایک مرتبہ پھر شدید نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے باور کرایا ہے کہ ایران نے معاہدے کی روح سے انحراف کیا ہے۔
جمعے کی صبح نیو جرسی میں اپنے ذاتی گولف کورس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ " ذاتی طور پر میرے نزدیک ایرانی حکام معاہدے پر پورا نہیں اُترے۔ تاہم ہمارے پاس وقت ہے اور ہم دیکھ لیں گے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ نیوکلیئر معاہدے پر عمل درامد نہ کرنے کی صورت میں سخت امور ان (ایرانیوں) کے منتظر ہوں گے"۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ وہائٹ ہاؤس کے اندر پہنچنے کی صورت میں ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے سے دست بردار ہو جائیں گے۔ کچھ عرصہ قبل ٹرمپ نے اس معاہدے کو "احمقانہ" قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ملک نے اس معاہدے سے کچھ حاصل نہ کیا۔
وہائٹ ہاؤس کے حکام ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے پر نظر ثانی کے لیے آمادہ ہو چکے ہیں۔
سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 جو نیوکلیئر معاہدے کے بعد سامنے آئی تھی.. اس میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ تہران معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد مسلسل آٹھ برس تک کسی قسم کا بیلسٹک میزائل تجربہ نہیں کرے گا۔ البتہ ایران نے ایک سے زیادہ مرتبہ اس قرار داد کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔
امریکا نے کانگریس کی منظوری اور صدر ٹرمپ کے دستخط سے رواں ماہ کے آغاز میں ایران پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ نئی امریکی انتظامیہ کی جانب سے تہران کے خلاف اب تک کی شدید ترین پابندیوں کا مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل کی اور ایرانی پاسداران انقلاب کی سرگرمیوں پر روک لگانا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکا ، برطانیہ ، جرمنی اور فرانس نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے میزائل تجربات سے دست بردار ہو جائے۔ البتہ پاسداران انقلاب کی قیادت اور ایرانی مرشد علی خامنہ ای کی جانب سے اس کو سختی سے مسترد کیا جاتا ہے۔