.

بلوچ حملہ آوروں کی فائرنگ سے پولیس اہلکار سمیت دو ایرانی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے جنوب مشرقی سنی اکثریتی صوبہ سیستان بلوچستان میں منگل کے روز پیشین ڈسٹرکٹ سینٹر میں فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار اور باسیج ملیشیا کےایک جنگجو سمیت کم سے کم دو افراد ہلاک ہوگئے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’میزان‘ کے مطابق موٹرسائیکل سوار نقاب پوش مسلح بلوچ جنگجوؤں نے ضلع پیشن میں ایک سرکاری مرکز پر فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار اور باسیج ملیشیا کا ایک شدت پسند مارا گیا۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملہ آور عدالتی مرکز کے اندر داخل ہونا چاہتے تھے مگر پولیس کی جوابی کارروائی میں وہ فرار ہوگئے۔

ادھر ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر کی گئی ایک خبر میں بھی بتایا گیا ہے کہ موٹر سائیکل سوار دو مسلح افراد نے پیشین کےعلاقے میں ایک ضلعی عدالتی مرکز پر فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔ فائرنگ کی زد میں آنے والا بارڈ پولیس کا ایک اہلکار اور باسیج ملیشیا کا اہلکار زخمی ہوگئے، جو بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گئے تھے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق بلوچستان کے سیکیورٹی امور کےمعاون علی اصغر میر شکاری کا کہنا ہے صوبہ بلوچستان کے علاقے پیشین میں ایک حکومتی مرکز پر فائرنگ میں ایک فوجی اور ایک عام شہری ہلاک ہوگیا۔

خیال رہے کہ ایران کے شورش زدہ صوبہ سیستان بلوچستان میں فوج، پولیس اور حکومتی تنصیبات پر حملے عام بات ہے۔ سیستان بلوچستان میں سرگرم بلوچ علاحدگی پسند گروپ اکثر ایرانی فوج کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔