.

’قبطی عیسائیوں کوخوف وہراس پھیلانے کے لیے قتل کیا گیا‘

لیبیا: سرت میں داعش کی سرگرمیوں کی نئی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے ایک کمانڈر فوزی العیاط نے انکشاف کیا ہے کہ لیبیا کے شہر ’سرت‘ میں داعش اب بھی سرگرم ہے۔ العیاط نے سنہ 2015ء میں سرت شہر میں قبطی عیسائیوں کے قتل عام کے واقعے کی بھی تفصیلات بتائیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصراتۃ شہر میں ’بنیان المرصوص‘ فورسز کی زیرحراست داعش کے سابق جج فوزی بشیر العیاط الحسناوی نے کہا کہ ’داعش‘ نے خوف پھیلانے اور پروپیگنڈے کے ہدف کے تحت مصری قبطیوں کے گلے کاٹے۔ اس کارروائی کا مقصد جنگجوؤں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں داعش میں شامل کرنے پر راغب کرنا تھا‘۔

ایک جرمن اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں داعش کے سابق جج کا کہنا تھا کہ ’قبطی عیسائیوں کے اجتماعی قتل کے وقت دنیا کو پیغام پڑھ کر سنانے کی ذمہ داری ابو عامر الجزراوی کو سونپی گئی تھی۔ اس نے ویڈیو میں یہ پیغام پڑھا تاہم اس واقعے کی مزید تفصیلات اور جگہ کا اسے بھی علم نہیں‘۔

لیبیا کے مختلف شہروں میں داعش کے قیام اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں العیاط نے کہا کہ پہلے درنۃ میں داعش کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے بعد سرت میں اس کی انصار الشریعہ شاخ قائم کی گئی۔ سرت میں تنظیم کے بعض ارکان بیعت کے لیے شام گئے۔ شام میں بیعت کے بعد انہیں تنظیم کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

ایک سوال کے جواب میں لیبی داعشی کمانڈر کا کہنا تھا کہ ان کی ملاقات داعش کے دیوان افتاء کے ڈائریکٹر ترکی البنعلی، سرحدی امور کےامیر ابو محمد العراقی، تنظیم کے ترجمان ابو محمد العدنانی اور دیگر سے ہوئی مگر اس سے قبل درنہ میں ستمبر 2014ء کو جنگجو ابو عبدالعزیز الانباری العراقی کے ہاتھ پر بیعت کرچکے تھے جو اس وقت لیبیا میں داعش کا امیر تھا۔ بعد ازاں وہ درنہ میں امریکا کے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگیا تھا۔

اس کے بعد ابو عامر الجزراوی امیر منتخب ہوئے۔ الجزراوی کے اعلیٰ داعشی قیادت سے براہ راست رابطے تھے مگر ہمیں ان کی خبر نہیں تھی۔ غالب امکان یہ ہے کہ الجزراوی سرت میں لڑائی کے دوران ابو محمد العراقی کے ہمراہ مارا گیا۔

داعشی شدت جنگجو نے بتایا کہ سرت میں جنگجوؤں کی تعداد 1500 کے لگ بھگ تھی۔ صحرائی علاقوں میں ’سرایا الصحراء‘ کے نام سے داعش کا گروپ سرگرم ہے۔ اس کے علاوہ کئی دوسرے ذیلی گروپ بھی ہیں جو اپنی جگہیں بدلتے رہتےہیں۔

خیال رہے کہ العیاط لیبیا میں داعش کا اہم کمانڈر رہا ہے۔ اسے داعش کے قاضی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ لیبیا میں انصار الشریعہ تنظیم کی تشکیل میں بھی العیاط کا کلیدی کردار رہا ہے۔ بعد ازاں یہ گروپ داعش میں شامل ہوگیا تھا۔