.

بھارت : آبروریزی کے مقدمے میں ماخوذ گروبابا کو 20 سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی شمالی ریاست ہریانہ میں ایک خصوصی عدالت نے آبروریزی کے دو مقدمات میں ماخوذ ایک خود ساختہ گرو بابا کو دس ،دس سال (کل بیس سال) قید بامشقت اور تیس لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم دیا ہے۔

ہریانہ میں واقع قصبے سرسا میں ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ بابا گرمیت رام رحیم سنگھ کو روہتک شہر کی جیل میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج جگدیپ سنگھ نے سوموار کے روز سزا سنائی ہے اور واضح کیا ہے کہ مجرم کو الگ الگ دس دس سال قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔مجرم اسی جیل میں قید ہے۔اس عدالت نے جمعہ کو پندرہ سال پرانے اس مقدمے میں انھیں قصور وار قرار دیا تھا۔

اس کے بعد بابا کے حامیوں نے ہریانہ اور پڑوسی ریاست پنجاب میں پرتشدد مظاہرے اور ہنگامے شروع کردیے تھے ۔انھوں نے ٹرین اسٹیشنوں اور بسوں پر حملے کیے تھے ۔ نجی اور سرکاری املاک اور گاڑیوں کو نذر آتش کردیا تھا۔تشدد کے ان واقعات میں اڑتیس افراد ہلاک اور دوسو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

گرمیت سنگھ کو سزا سنائے جانے کے بعد تشدد کے کسی واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے کیونکہ سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور ہریانہ میں پولیس کو مظاہرین کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا گیا تھا۔روہتک جیل کی جانب جانے والی تمام شاہراہیں بند کردی گئی تھیں۔

جمعے اور ہفتے کو اس گرو کے پیروکاروں کے پرتشدد ہنگاموں کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ناقدین کا کہنا تھا کہ حکومت ان کے پیروکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتی ہے ۔ریاست ہریانہ میں بھی بی جے پی کی حکومت ہے۔

پچاس سالہ لمبی زلفوں والے گرمیت سنگھ کے خلاف سنہ 2002ء میں اپنی دو پیروکار عورتوں کی آبروریزی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔بابانے اپنے آشرم ڈیرہ سچا سودا ہی میں ان دونوں کو مبینہ طور پر اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔مجرم پر عاید کردہ جرمانے کی رقم میں سے چودہ چودہ لاکھ روپے ان دونوں متاثرہ عورتوں کو ادا کیے جائیں گے۔

گرو کو ایک مقدمے میں آبروریزی کے نئے قانون کے تحت کم سے کم سات سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا سنائی جاسکتی تھی لیکن خصوصی عدالت کے جج نے بیس سال قید کا حکم دیا ہے اور وہ اس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

گروبابا کے وکیل اے کے پنتھ کا کہنا ہے کہ ان کے موکل بے گناہ ہیں اور وہ اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔ڈیرہ سچا سودا کی ترجمان ویپسانا انسان نے ان کے پیروکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کریں۔

اس کیس سے ایک جانب تو بھارت میں روحانی بابوں پرعام لوگوں کے اندھے اعتقاد کی حقیقت کا پتا چلتا ہے اور دوسری جانب ان کے اثرو رسوخ کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ کیسے اپنے لاکھوں پیروکاروں کو متحرک کرسکتے ہیں اور انھیں اپنے حق میں مظاہروں کے لیے سڑکوں پر نکال سکتے ہیں۔گرمیت سنگھ نے اپنی ویب سائٹ پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دس لاکھ سے زیادہ پیروکار ہیں۔

ان صاحب نے 2015ء میں ایک فلم کے ذریعے اپنے پیروکاروں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ وہ خدا کے پیغام بر ہیں اور روحانی طاقتوں کے مالک ہیں۔وہ اس فلم میں اپنے کمالات دکھاتے نظر آئے تھے۔وہ ہزاروں افراد کو تبلیغ کررہے تھے اور گانا گاتے اور رقص کرتے گینگسٹر کو مارتے پیٹتے بھی نظر آتے تھے۔

گذشتہ دو روز کے دوران میں ان کے ڈیرے اور گاڑیوں سے ممنوعہ بور کے ہتھیار بھی برآمد ہوئے ہیں جس کے بعد بھارتی میڈیا نے یہ اطلاع دی ہے کہ بابا اور ان کے پیروکاروں کے دہشت گرد تنظیموں سے بھی تعلقات ہوسکتے ہیں اور اب پولیس اس امر کی تحقیقات کررہی ہے۔