.

ایرانی حجاج سعودی عرب کے حج انتظامات سے مطمئن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس مرتبہ حج کی سعادت حاصل کرنے والے ایرانی شہریوں نے سعودی عرب کی جانب سے کیے گئے انتظامات پراطمینان کا اظہار کیا ہے۔ 2015ء میں منیٰ میں بھگدڑ کے افسوس ناک حادثے کے بعد ایرانی عازمین نے پہلی مرتبہ حج کا فریضہ ادا کیا ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے قبل ازیں یہ کہا تھا کہ اس سال کسی قسم کے ناخوش گوار واقعے سے پاک حج سے تہران اور الریاض کے درمیان دوسرے شعبوں میں بھی اعتماد کی فضا پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

مناسک حج مکمل کرچکنے والے ایرانی عازمین کا کہنا ہے کہ وہ ( حج انتظامات سے) مطمئن ہیں۔اس مرتبہ ایران نے اپنے قریباً نوّے ہزار عازمین حج کو نیلے رنگ کے برقی شناختی نشان جاری کیے تھے تاکہ منتظمین ان کا سراغ لگا کر ان کی شناخت کرسکیں۔

ایرانی حجاج روایتی سفید اِحرام میں ملبوس تھے اور وہ میدان عرفات میں مالٹائی رنگ کی بسوں میں سوار ہوکر اپنی نشان زدہ جگہوں پر آئے تھے۔پھر وہاں سے وہ مناسک کی ادائی کے لیے دوسرے مقامات کی جانب بآسانی آتے جاتے رہے ہیں۔

بعض ایرانی حجاج نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکام نے انھیں بہتر سہولتیں مہیا کی ہیں، انھیں ائیر کنڈیشند خیمے بھی مہیا کیے گئے تھے اور ان سے ہر لحاظ سے اچھا برتاؤ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ان میں سے بعض ایرانی ماضی میں بھی حج کی سعادت حاصل کرچکے تھے۔