.

خلیجی ممالک کے بائیکاٹ کے مضمرات پرقطری اربابِ اقتدار کی تضاد بیانیاں جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چار ممالک سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے جون سے جاری قطر کے بائیکاٹ کے حوالے سے قطری ارباب اقتدار کی تضاد بیانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔وہ ایک جانب یہ کہہ رہے ہیں کہ اس بائیکاٹ کے نتیجے میں ان کا ملک مضبوط ہواہے اور دوسری جانب ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے ملک کو اس ’’ محاصرے‘‘ کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔

قطر کے وزیر مملکت برائے دفاع خالد بن محمد العطیہ نے گذشتہ منگل کے روز یہ دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ چار وں ممالک کی جانب سے ان کے بہ قول مسلط کردہ محاصرے نے قطر کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط بنا دیا ہے۔

انھوں نے یہ کہہ کر دراصل اپنے ہی امیر کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے بہترویں سالانہ اجلاس میں کی گئی تقریر کی تردید کردی تھی۔امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے 19 ستمبر کو جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ان کے ملک کو محاصرے کے نتیجے میں مصائب اور مشکلات کا سامنا ہے۔

مصائب یا مضبوطی؟

قطری وزیر نے گذشتہ منگل کے روز دوحہ میں ایک نجی یونیورسٹی میں ایک لیکچر دیا تھا اور اس میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ قطر بحران کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انھوں نے اپنے ملک کی معیشت مضبوط ہونے کا بھی دعویٰ کیا تھا اور اس ضمن میں کئی ایک اقتصادی رپورٹس اور اشاریے یکسر نظر انداز کردیے تھے جو گذشتہ تین ماہ کے دوران میں قطری معیشت کے روبہ زوال ہونے کی نشان دہی کررہے تھے۔

مذکورہ چاروں ممالک نے دہشت گرد گروپوں کی مسلسل حمایت جاری رکھنے اور بار بار کے انتباہوں کو نظر انداز کرنے پر قطر کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔انھوں نے قطر پر یہ الزام عاید کیا تھا کہ وہ دہشت گرد اور کالعدم گروپوں کی حمایت کے ذریعے ان ممالک کی داخلی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

خالد العطیہ تو قطر کے خلیج بحران کے بعد سے مضبوط ہونے کے بھاشن دے رہے ہیں لیکن ان کے ملک کے برسلز میں متعیّن سفیر عبدالرحمان بن محمد بن الخلیفی کا کہنا ہے کہ بحران کے نتیجے میں متعدد منصوبوں کی تکمیل میں رکاوٹیں پڑی ہیں حالانکہ انھیں خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر بآسانی مکمل کیا جاسکتا تھا۔