.

اسپین: کیٹلان میں آزادی ریفرینڈم، 800 افراد لہولہان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسپین کے ’کیٹلان‘ صوبے میں علاحدگی کے لیے ہونے والے عوامی ریفرینڈم کو خون میں نہلا دیا گیا۔ گذشتہ روز کیٹلان میں ایک جانب آزادی ریفرینڈم کے لیے پولنگ اور دوسری جانب پولیس کے ساتھ تصادم کا سلسلہ جاری رہا۔

مقامی اور غیرملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق کاتالونیا صوبے میں اتوار کو ہونے والے والے ریفرینڈم میں 800 کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے پولنگ اسٹیشنوں کو بند کرنے کی کوشش کی اور بیلٹ باکس چھینے۔ اس پر علاقے بھر کے ووٹروں نے مزاحمت کی۔

کاتالونیا کے اہل کاروں کے مطابق جھڑپوں میں زخمی ہونے والے 761 افراد کا علاج کیا گیا، جن کی تعداد میں اضافہ آتا جا رہا ہے، جب کہ بارسلونا اور کیٹلان کے دیگر شہروں میں پولیس کا گشت شروع ہونے پر لوگوں میں سخت مایوسی اور خوف کی فضا پائی جا رہی ہے۔

اسپین کی معاون وزیر اعظم سریہ سانز دی سانتا ماریا نے اتوار کے روز میڈرڈ میں بتایا کہ ''لگتا نہیں تھا کہ آج کہیں بھی ریفرینڈم ہوا، نہ اس کے کوئی آثار تھے''۔

اس سے قبل موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، اسپین کے شمال مشرقی خطے کیٹلان میں ہزاروں افراد آزاد و خود مختار علاقے کے لیے ریفرینڈم میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکلے ہیں جب کہ میڈرڈ پہلے ہی اس ریفرینڈم کو "غیر قانونی" قرار دیتے ہوئے ووٹنگ کو روکنے کا اعلان کر چکا ہے۔

اسپین کے حکام نے ہفتہ کو پولیس کو حکم دیا تھا کہ وہ اس خطے میں اتوار کو ہونے والی ووٹنگ کے لیے پولنگ اسٹیشن کے طور پر استعمال ہونے والے اسکولوں کو بند کر دے۔

اس دوران متعدد مقامات پر پولیس اور ووٹ کے لیے جمع ہونے والوں کے درمیان مڈبھیڑ بھی ہوئی اور اہلکاروں نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں بھی چلائیں۔

ایسی جھڑپوں میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

امریکی خبر رساں ایجنسی "ایسوسی ایٹڈ پریس" کے مطابق اس کے باوجود اتوار کو بیلٹ باکس پولنگ اسٹیشنز پر پہنچتے ہوئے دیکھے گئے اور کیٹلان کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایسے بیلٹ پیپرز کو استعمال کرنے کی بھی اجازت دے گی جو لوگوں نے گھروں میں چھاپے ہیں۔

ریفرینڈم کے بہت سے حامی ان اسکولوں میں پہلے سے ہی موجود تھے اور انھوں نے وقت گزاری کے لیے اپنے بچوں کو بھی ہمراہ رکھا اور کھیل کود میں مصرف نظر آئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" کے مطابق اتوار کو علی الصبح جب لوگ پولنگ اسٹیشنز کے باہر قطاریں بنا رہے تھے تو تقریباً پولیس کی 30 وینز اور دیگر گاڑیاں بھی کاتالونیا کے لیے روانہ ہوئیں۔

اس مجوزہ ریفرینڈم کے باعث کاتالونیا کے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس خطے میں دیگر علاقوں کے علاوہ بارسلونا بھی شامل ہے۔

ریفرینڈم کے اعلان اور اقدام نے ملک میں بدترین آئینی بحران کو بھی جنم دیا ہے۔

کیٹلان کے رہنما کارلس پوئیمونٹ نے ایک مقامی ٹی وی چینل پر تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاتالونیہ نے اتوار کے متنازع ریفرینڈم کے بعد ’ریاست بننے کا حق حاصل کر لیا ہے۔