.

امریکا : موسیقی میلے پر فائرنگ، 58 افراد ہلاک اور500سے زیادہ زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے شہر لاس ویگاس میں اتوار کی رات موسیقی کے ایک میلے میں ایک مسلح شخص کی اندھادھند فائرنگ کے نتیجے میں اٹھاون افراد ہلاک اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

لاس ویگاس پولیس نے بتایا ہے کہ حملہ آور نے منڈالے بے ہوٹل کی بتیسویں منزل پر واقع کمرے سے موسیقی میلے کے شرکاء پر فائرنگ کی ہے۔بعد میں اس نے پولیس کی آمد پر خود کو بھی گولی مار ہلاک کرلیا۔

شہر کے ایک ہسپتال کے ترجمان کے مطابق گولیاں لگنے سے 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور چار سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں متعدد کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔موسیقی کے اس میلے میں بائیس ہزار سے زیادہ افراد شریک تھے۔

اچانک شدید فائرنگ کے نتیجے میں موسیقی میلے کے شرکاء میں افرا تفری مچ گئی۔ اس کے بعد سیکڑوں افراد کو جائے وقوعہ سے بہ حفاظت نکال لیا گیا۔ٹی وی چینلوں نے مختلف وڈیوز نشر کی ہیں جن میں لوگوں کو بد حواسی کے عالم میں ادھر ادھربھاگتے اور جانیں بچانے کے لیے چھپتے ہوئے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

پولیس نے حملہ آور کی شناخت اسٹیفن پیڈاک کے نام سے کی ہے ۔اس نے منڈالے ہوٹل کی بتیسویں منزل پر ایک کمرا کرائے پر لے رکھا تھا اور وہاں سے اس نے فائرنگ کی ہے۔ اس کی عمر چونسٹھ سال تھی اور وہ ایک ریٹائرڈ اکاؤنٹینٹ تھا۔ پولیس نے اس کے کمرے سے دس سے زیادہ بندوقیں برآمد کی ہیں ۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر واقعے کے اصل محرک کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا ہے۔سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا لیکن امریکی حکام نے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کیونکہ حملہ آور اسٹیفن پیڈاک کے فوری طور پرکسی غیرملکی جنگجو گروپ سے روابط کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔اس کا نام بھی غیرمسلموں ایسا ہے جبکہ داعش کا کہنا ہے کہ اس نے حال ہی میں اسلام قبول کیا تھا۔