.

یمن کے 10 صحافی دو سال سے باغیوں کے زیر عتاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی تنظیموں نے بتایا ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں نے دو سال سے 10 صحافیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان صحافیوں کے خلاف باغی عناصر آج سوموار سے تحقیقات کا آغاز کر رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دو سال سے زاید عرصے سے یرغمال بنائے گئے صحافیوں پر آئینی حکومت کی حمایت اور عرب اتحاد کی طرف داری کرتے ہوئے ’ظلم کا ساتھ دینے‘ کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

ایک مقامی قانون دان ایڈووکیٹ عبدالمجید صبرہ جو مغوی صحافیوں کی طرف سے کیسز کی پیروی بھی کررہے ہیں نے بتایا کہ انہیں باغیوں کی قائم کردہ اسٹیٹ سیکیورٹی پراسیکیوٹر نے اطلاع دی ہے کہ زیرحراست 10 صحافیوں سے تفتیش آج سوموار سے شروع ہو رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یرغمال بنائے گے تمام صحافیوں کو گذشتہ 10 جولائی کو پراسیکیورٹر کے حوالے کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ان کے کسی اقارب یا وکیل کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ملاقات پر پابندی بدستور برقرار ہے۔

ایڈووکیٹ صبرہ نے کہا کہ باغیوں کے محکمہ پراسیکیوشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف یرغمال بنائے گئے صحافیوں کے بارے میں مکمل معلومات مہیا کرے بلکہ انہیں فوری طور رہا کیاجائے۔ ان کے خلاف اس سے قبل جتنے بھی حربے آزمائے گئے ہیں وہ سب غیرقانونی اور غیرانسانی ہیں۔

یاد رہے کہ حوثی باغی اور علی صالح ملیشیا 2015ء کے بعد سے اب تک 21 مقامی صحافیوں کو یرغمال بنال چکے ہیں۔دوران حراست صحافیوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔