.

جبری نظر بندی کے سات سال بعد مہدی کروبی سے ملاقات کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سات سال سے گھر پر نظر بند اصلاح پسند رہ نما مہدی کروبی سے ملاقات پر پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نظر بند رہ نما مہدی کروبی کے صاحبزادے حسین کروبی کا کہنا ہے کہ ایرانی قومی سلامتی کونسل نے سات سال کے بعد بعض سیاسی اور سماجی رہ نماؤں کو ان کے والد سے ملاقات کی اجازت دی ہے۔

خیال رہے کہ مہدی کروبی تحریک سبز انقلاب کے اہم رہ نماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ گذشتہ سات سال سے اپنے گھر پر نظر بند ہیں۔

ان کے بیٹے حسین کروبی نے بتایا کہ اصلاح پسند جماعت ’اعتماد ملی‘ کے ایک لیڈر اسماعیل دستی نے گذشتہ ہفتے ان کے والد سے گھر پر ملاقات کی۔

انہوں نے بتایا کہ سپریم ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی نے انہیں بتایا کہ گھروں پر نظر بند رہ نماؤں کی نظر بندی ختم کرنے کے لیے قائم کردہ کمیٹی نے نظر بندی ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس سلسلے میں مہدی کروبی اور میر حسین موسوی کے بعض قریبی ساتھیوں کو ان کے پاس بھیجا جا رہا ہے تاکہ مرحلہ وار ان کی نظر بندی ختم کی جاسکے۔

اسی موقع پر ایران کے بعض اخبارات میں سبز انقلاب تحریک کے نظر بند رہ نماؤں کی نظر بندی ختم کئے جانے کی خبریں بھی شائع ہوئی تھیں۔

ادھر ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے ترجمان کیوان خسروی نے کہا کہ کونسل کے حالیہ اجلاس کے ایجنڈے میں نظر بند رہ نماؤں پر عاید کردہ پابندیاں اٹھانے کا معاملہ شامل نہیں تاہم بعض سیاسی اور سماجی شخصیات کو نظر بند لیڈروں کے گھروں میں جانے اور ان سے ملنے کی اجازت دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ میر حسین موسوی اور مہدی کروبہ سنہ 2009ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد ملک میں پھوٹنے والے ہنگاموں گرفتار کیے گئے تھے۔ سنہ 2009ء میں ایران میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور اس کے نتیجے میں محمود احمدی نژاد کی جیت کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ بعد ازاں ایرانی پولیس نے اصلاح پسند رہ نماؤں مہدی کروبی اور حسین موسوی کو ان کے گھروں پر نظر بند کردیا تھا۔