.

سلیمانی عراق وشام میں ہماری تمام فورسز کی قیادت کر رہے ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف جنرل احمد رضا بوردستان نے کہا ہے کہ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم القدس ملیشیا کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی عراق اور شام میں ایران کی تمام فورسز کی قیادت کررہے ہیں۔

پاسداران انقلاب کی مقرب نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کو دیے گئے انٹرویو میں جنرل بوردستان نے کہا کہ شام و عراق میں لڑنے والے افغان جنگجو ہوں یا، پاسداران انقلاب، سرکاری فوج ہو یاعراقی ملیشیا سب جنرل سلیمانی کے نیچے کام کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں احمد رضا بوردستان نے کہا کہ ایران فوج کی ’گرین کیپ‘ کے نام سے مشہور ایلیٹ فورسز کے اہلکار بریگیڈ 65 کے کمانڈوز ہیں۔ اسی میں فاطمیون بریگیڈ بھی شامل ہے اور یہ سب شام میں اپنی مہمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایرانی فوجی عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ بیرون ملک ہماری فوج القدس ملیشیا کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی قیادت میں یا ان سے رابطے میں رہ کا کام کرتے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران نے ملٹری اسلحہ ساز انجینیروں اور ٹیکنیکل ٹیم شام میں متاثرہ ٹینکوں کی مرمت کے لیے دمشق بھیجی۔ یہ ماہرین بھی جنرل سلیمانی کی نگرانی میں کام کررہے ہیں تاہم انہوں نے شام میں لڑاکا ایرانی فورسز کی موجودگی کی تردید کی۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی فضائیہ کے اہلکار شام میں گذشتہ تین سال سے C-130 اور 747 طرز کے ہوائی جہازوں کو استعمال کررہے ہیں۔

ایرانی فوج کے ڈپٹی چیف کا کہنا ہے کہ عراق میں فیلق القدس اور جنرل قاسم سلیمانی کی زیرنگرانی الحشد الشعبی ملیشیا کو عسکری تربیت دی گئی۔ اس کےعلاوہ جنرل سلیمانی کی نگرانی میں شام میں لڑنے والی افغانی اور شامی ملیشیاؤں کو بھی عسکری تربیت دینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

شام اور عراق میں ایرانی فوج اور جنرل قاسم سلیمانی کی سرگرمیوں کے بارے میں ایرانی عہدیدار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب حال ہی میں امریکی وزارت خزانہ نے پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے اسے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام، عراق، یمن اور خطے کے دوسرے ملکوں میں مداخلت پر ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد فوج قرار دینے کا اعلان کیا تھا۔

حال ہی میں ایرانی ذرائع ابلاغ میں ایرانی آرمی چیف جنرل محمد باقی کی تصاویر بھی شائع ہوئی ہیں جن میں انہیں جنر سلیمانی کے ہمراہ شام کےحلب شہر میں گھومتے دکھایا گیا ہے۔

حلب میں ایک اجتماع سے خطاب میں جنرل باقری نے شامی اپوزیشن کو طاقت سے کچلنے کی دھمکی دی اور کہا کہ شام کو تکفیری دہشت گردوں سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا۔

گذشتہ ہفتے پاسدران انقلاب کے جنرل عبداللہ خسروی شام میں لڑائی کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔ میجر جنرل عبداللہ خسروی پاسداران انقلاب کی’فاتحین‘ بریگیڈ کےسربراہ اور شام میں بسیج ملیشیا کی طرف سے بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے والے اجرتی قاتلوں کو عسکری تربیت فراہم کررہے تھے۔