.

عالمی ادارہ صحت کو ہلا دینے والے اسکینڈل کا سبب زمبابوے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت WHO نے ہفتے کے روز سگریٹ نوشی اور غیر متعدی امراض کی روک تھام کے سلسلے میں افریقی ملک زمبابوے کی کوششوں کو سراہا ہے۔ اس اقدام کو زمبابوے کے صدر روبرٹ موگابے کے عالمی ادارہ صحت کے خیر سگالی کے سفیر کے طور پر تقرر کے لیے جواز قرار دیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے کے سربراہ اور ایتھوپیا کے سابق وزیر صحت ٹیدروس گیربریسوس نے 93 سالہ موگابے سے درخواست کی تھی کہ وہ خیر سگالی کے سفیر کے طور پر کام کریں تا کہ افریقہ میں غیر متعدی امراض مثلا امراض قلب اور دمہ وغیرہ کی روک تھام میں مدد کی جا سکے۔

رواں ہفتے موگابے کے تقرر نے کارکنان میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے جن کا اصرار ہے کہ زمبابوے میں صحت کا نظام دیگر خدماتِ عامّہ کی طرح موگابے کی مطلق العنان حکومت کے دور میں زوال پذیر ہوا ہے۔

زمبابوے میں سابقہ استعماری قوت برطانیہ نے بھی ہفتے کے روز عالمی ادارہ صحت کے اس فیصلے کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور یورپ کی جانب سے موگابے پر عائد پابندیوں کی روشنی میں یہ فیصلہ تباہ کن ہو گا۔

برطانوی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک ای میل میں بتایا کہ "ہم نے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے"۔ ترجمان نے مزید کہا کہ "(موگابے) کا تقرر اُس کام کو برباد کر سکتا ہے جو عالمی ادارہ صحت نے غیر متعدی امراض کے حوالے سے پوری دنیا میں کیا ہے"۔

ادھر امریکا نے ہفتے کے روز کہا کہ "موگابے کا تقرر اقوام متحدہ کے شایانِ شان نہیں ہے"۔ امریکی وزارت خارجہ نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ "امریکی انتظامیہ نے صدر موگابے پر اپنے عوام کے خلف جرائم کے ارتکاب اور امن و امان کے لیے خطرہ بننے کے سبب پابندیاں عائد کیں۔ یہ تقرر واضح طور پر اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق کے احترام کی نمائندہ مثالوں سے میل نہیں کھاتا"۔

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے موگابے کے بطور خیر سگالی کے سفیر تقرر کے فیصلے کو "بے ہودہ" اور "قطعی طور پر ناقابل قبول" شمار کیا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ کینیڈا سفارت کاری کے راستے اس نقطہ نظر کو عالمی برادری تک پہنچانے کے لیے کام کرے گا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکن اور وکیل ڈاگ کولٹرٹ نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ "ایک شخص نے زمبابوے میں صحت کا نظام تباہ کر دیا اور وہ علاج کرانے کے لیے سنگاپور جاتا ہے۔ ایسا شخص عالمی ادارہ صحت میں خیر سگالی کا سفیر ہے"۔

زمبابوے میں زیادہ تر ہسپتال دواؤں اور ساز و سامان کی قلت سے دوچار ہیں جب کہ ڈاکٹروں اور نرسوں کو اکثر و بیشتر ان کی تنخواہیں نہیں ملتی ہیں۔

زمبابوے میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت "موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج" نے موگابے کے تقرر کو "مضحکہ خیز" قرار دیا ہے۔ جماعت کے ترجمان اوبرٹ گوٹو نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ "زمبابوے میں صحت کا نظام انارکی کی حالت میں ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "موگابے نے ہمارا صحت کا پورا نظام تباہ کر ڈالا۔ وہ اور اس کا خاندان ہمارے قومی ہسپتالوں کو برباد کر دینے کے بعد اپنا علاج کرانے کے واسطے سنگاپور جاتے ہیں"۔