.

سعد حریری کی پیرس آمد ، سعودی عرب میں قیام سے متعلق افواہوں کی تردید

ایلزے محل میں فرانسیسی صدر ماکروں سے ملاقات ، لبنان کی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے مستعفی وزیراعظم سعد الحریری ہفتے کی صبح سعودی عرب سے فرانس کے دارالحکومت پیرس پہنچ گئے ہیں۔انھیں فرانس کے صدر عمانو ایل ماکروں نے اس دورے کی دعوت دی ہے۔

فرانسیسی صدر نے سعد الحریری کا ایلزے محل پہنچنے پر خیر مقدم کیا ہے اور ان سے ظہرانے پر ملاقات کی۔انھوں نے لبنان کی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔اس موقع پر سعد حریری کی اہلیہ اور ان کا بڑا بیٹا حسام بھی موجود تھے۔صدر ماکروں کا کہنا ہے کہ وہ لبنان میں جاری سیاسی بحران کو حل کرانے کے خواہاں ہیں۔

سعد الحریری نے قبل ازیں ایک ٹویٹ میں اطلاع دی تھی کہ وہ سعودی دارالحکومت الریاض کے ہوائی اڈے کی جانب جارہے ہیں۔انھوں نے لکھا :’’ یہ کہنا کہ مجھے سعودی عرب میں زیر حراست رکھا گیا ہے اور ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے تو یہ صریح جھوٹ ہے۔میں ہوائی اڈے جارہا ہوں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ سعودی عرب میں ان کے خاندان سمیت قیام سے متعلق کی جانے والی تمام باتیں محض افواہیں اور جھوٹ ہیں۔ واضح رہے کہ سعد حریری دُہری شہریت کے حامل ہیں۔ وہ لبنان کے علاوہ سعودی عرب کے بھی شہری ہیں اور ان کا خاندان الریاض میں مقیم ہے۔

سعد حریری نے مذکورہ بالا پیغام انگریزی میں ٹویٹ کیا تھا ،ورنہ وہ عام طور پر عربی زبان میں ٹویٹ کرتے ہیں ۔انھوں نے اس میں جرمن وزیر خارجہ سگمار گبریل کو مخاطب کیا تھا اور انھیں مطلع کیا تھا کہ وہ بیرون ملک سفر کے لیے سعودی دارالحکومت کے ہوائی اڈے کی جانب جارہے ہیں۔

اس سے پہلے ایک ٹویٹ میں انھوں نے بتایا تھا کہ ان کے سعودی عرب میں قیام کا مقصد لبنان کے مستقبل اور اس کے عرب ممالک سے تعلقات کے بارے میں تبادلہ خیال کرنا تھا۔

سعد حریری نے 4نومبر کو لبنان کے داخلی امور میں ایران کی مداخلت کے خلاف بہ طور احتجاج اپنے عہدے سے استعفا دے دیا تھا۔انھوں نے ایران اور حزب اللہ پر عرب امور کے داخلی امور میں مداخلت کا الزام عاید کیا تھا اور اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ انھیں قتل کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے 12 نومبر کو ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ کہا تھا کہ وہ بہت جلد سعودی عرب سے اپنے وطن لوٹ رہے ہیں۔ اس کے دو روز بعد انھوں نے یہ ٹویٹ کیا تھا ’’ میں خیریت سے ہوں۔ان شاء اللہ میں دو روز میں ( بیروت ) لوٹ جاؤں گا ۔میرا خاندان فلاحی مملکت سعودی عرب میں اپنے دوسرے گھر میں مقیم ہے‘‘۔

لبنان کے صدر مشعل عون ان کے استعفے کو منظور کرنے سے انکار کرچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک سعد حریری خود بیروت آکر اپنے استعفے کی توثیق نہیں کرتے، وہ اس کو منظور نہیں کریں گے۔انھوں نے سعودی عرب پر یہ الزام عاید کیا تھا کہ اس نے لبنانی وزیراعظم کو ان کی منشا کے بغیر روک رکھا ہے۔

سعد حریری کے اچانک استعفے کے بعد لبنان میں ایک سیاسی بحران پیدا ہوچکا ہے اور دونوں علاقائی حریف ممالک سعودی عرب اور ایران اس چھوٹے ملک کی غیر یقینی سیاسی صورت حال پر ایک دوسرے کے خلاف تندو تیز بیانات جاری کررہے ہیں۔

فرانسیسی صدر ماکروں (دائیں سے چوتھے نمبر پر) ان کی اہلیہ بریجیٹ ماکروں  کی لبنان کے مستعفی وزیراعظم سعد الحریری ،ان کی اہلیہ  لارا اور  بیٹے  حسام  کے ساتھ  تصویر۔
فرانسیسی صدر ماکروں (دائیں سے چوتھے نمبر پر) ان کی اہلیہ بریجیٹ ماکروں کی لبنان کے مستعفی وزیراعظم سعد الحریری ،ان کی اہلیہ لارا اور بیٹے حسام کے ساتھ تصویر۔