.

ٹرمپ اور ماکروں حزب اللہ اور ایران کا مقابلہ کرنے کی ضروت پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانویل ماکروں کے ساتھ بات چیت کی جو لبنان میں بحران کے حوالے سے کئی دیگر رہ نماؤں کے ساتھ مشاورت کر چکے ہیں۔ اس سے قبل ماکروں نے فرانس کے صدارتی محل الیزے میں لبنان کے مستعفی وزیراعظم سعد حریری سے ملاقات کی تھی۔

وہائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ اور ماکروں نے حلیفوں کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت پر اتفاق رائے کیا تا کہ حزب اللہ اور ایران کی سرگرمیوں کا مقابلہ کیا جا سکے جو خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر رہی ہیں۔

ہفتے کی شام فرانسیسی ایوان صدارت نے بتایا تھا کہ صدر ماکروں نے مختلف عالمی رہ نماؤں کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ ان شخصیات میں لبنانی صدر میشیل عون ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی ، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتریس شامل ہیں۔

ماکروں نے مذکورہ رہ نماؤں کے ساتھ بات چیت میں مشرق وسطی کی صورت حال اور خطے میں امن کے قیام کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ صدارتی محل الیزے کے مطابق فرانسیسی صدر آنے والے دنوں میں بھی دیگر بین الاقوامی قائدین کے ساتھ رابطے جاری رکھیں گے۔

لبنان کے مستعفی وزیراعظم سعد حریری نے ہفتے کے روز پیرس میں صدر ماکروں سے ملاقات کے بعد بتایا کہ وہ بیروت جائیں گے جہاں وہ بدھ کے روز لبنان کی آزادی کی تقریبات میں شریک ہوں گے۔ اس موقع پر حریری دو ہفتے قبل دیے گئے اپنے استعفے کے حوالے سے بات کریں گے۔

قصرِ الیزے نے ماکروں اور حریری کی ملاقات کے اختتام پر جاری بیان میں واضح کیا کہ فرانسیسی صدر لبنان میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات پر جاری رکھیں گے۔

فرانس کا ارادہ ہے کہ وہ پیرس میں ایک اجلاس میں لبنان کے لیے بین الاقوامی سپورٹ گروپ کو دعوت دے تاہم اجلاس کے انعقاد کی حتمی تاریخ کا تعین نہیں ہوا ہے۔