.

علی صالح کی جماعت نے حوثیوں سے وابستہ ’’شرپسند‘‘ گروپوں کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس نے حوثیوں سے وابستہ ملیشیاؤں کی مذمت کردی ہے اور انھیں شرپسند اور جنگ کے سوداگر قرار دیا ہے۔

کانگریس نے ان ملیشیاؤں سے ملک کو لاحق خطرات کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔جنرل پیپلز کانگریس کے ایک عہدہ دار نے حوثیوں کے زیر قبضہ سرکاری میڈیا کی ان شرپسندوں سے معاملہ کاری کی بھی مذمت کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ان شرپسندوں سے جس طریقے سے معاملہ کیا جارہا ہے،اس سے کئی ایک سوالات نے جنم لیا ہے اور وہ یہ کہ یہ میڈیا ذرائع کس کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کررہے ہیں اور وہ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں‘‘۔

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں واقع تمام سرکاری میڈیا اداروں پر حوثی ملیشیا کا کنٹرول ہے اور وہ اس کو صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے خلاف بغاوت میں حصے دار جماعت کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کررہی ہے۔

علی صالح کی جماعت نے’’ جنگ کے سوداگروں‘‘ کی اسکیموں کو عملی جامہ پہننے سے روکنے کی اہمیت پر بھی زوردیا ہے اور کہا ہے کہ ’’ہم ان شرپسندوں کی تجویز کردہ حماقتوں پر خاموش نہیں بیٹھے رہیں گے‘‘۔

جنرل پیپلز کانگریس کے اس سخت بیان سے قبل حوثی ملیشیا نے حال ہی میں قائم کردہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک بیان جاری کیا تھا اور اس میں بغاوت میں شراکت داروں کے خلاف سنگین الزامات عاید کیے گئے تھے۔اس بیان میں حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا ۔ مبصرین نے اس کو حوثیوں اور صالح کے درمیان مکمل علاحدگی کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔