ایران کے علاقائی خطرات نے تمام حدیں پار کرلیں: عرب لیگ

عرب وزرائے اجلاس کے غیر معمولی اجلاس میں ایران کی خطے میں ’’خلاف ورزیوں ‘‘ پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے کہا ہے کہ ایران خطے میں اور بالخصوص سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے لیے ایک’’ خطرناک خنجر ‘‘بنتا جارہا ہے۔

انھوں نے یہ بات اتوار کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ حوثی ملیشیا کا حال ہی میں سعودی عرب کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل ایرانی ساختہ تھا۔

احمد ابو الغیط نے کہا :’’ سعودی عرب کی جانب داغے گئے تمام 76 بیلسٹک میزائل اور راکٹ ایرانی ساختہ تھے ۔اس لیے ہم سعودی عرب کی جانب سے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں‘‘۔

قاہرہ میں سعودی عرب کی درخواست پر عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا یہ غیرمعمولی اجلاس طلب کیا گیا تھا۔اس میں خطے میں ایران کی ’’ خلاف ورزیوں‘‘ اور ان سے نمٹنے کے طریقوں پر غور کیا گیا ہے۔

بحرین اور متحدہ عرب امارات نے عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس بلانے کے لیے سعودی عرب کی درخواست کی حمایت کی تھی اور تنظیم کے موجودہ صدر ملک جیبوتی نے اس کی منظوری دی تھی۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اس وقت عرب لیگ کے دو رکن ممالک لبنان کی سیاسی صورت حال اور قطر کے تنازعے کی وجہ سے شدید کشیدگی پائی جارہی ہے۔

عرب لیگ کے ایک اعلامیے کے مطابق سعودی عرب نے یمن سے دارالحکومت الریاض کی جانب بیلسٹک میزائل کے ایک حملے کے بعد عرب وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے 4 نومبر کو الریاض کے نزدیک اس میزائل کو مار گرایا تھا۔

سعودی عرب نے اپنی درخواست میں اس میزائل حملے کے علاوہ بحرین میں 10 نومبر کو تیل کی ایک پائپ لائن پر حملے کا بھی حوالہ دیا تھا ۔بحرین نے ایران پر اس حملے کا الزام عاید کیا تھا۔سعودی عرب نے اپنی درخواست میں عرب خطے میں ایران کی خلاف ورزیوں اور دراندازیوں کا ذکر کیا تھا جن کے نتیجے میں نہ صرف عرب دنیا بلکہ دنیا بھر کی امن اور سلامتی خطرے سے دوچار ہوگئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں