.

خواتین کو ہراسیت سے نجات کے لیے مراکش کیا اقدامات کر رہا ہے؟ جانئے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی افریقی کے عرب ملک مراکش میں پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد ملک میں سرگرم شہری حقوق اور سماجی بہبود کی تنظیموں نے تحفظ ناموس خواتین مہم شروع کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ مہم مراکش میں پیش آنے والے اس لرزہ خیز واقعے کے بعد شروع کی گئی ہے جس میں سرے عام ایک خاتون کو گینگ ریپ کا نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق چند روز قبل ایک بس میں سوار معذور لڑکی کو متعدد اوباشوں نے ہراساں کیا جس کے نتیجے میں عوامی سطح پر شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔

اسی سیاق میں مراکش میں خواتین کو جنسی ہراسانی سے بچانے کے لیے ’بس، میرے اور آپ کے لیے ہے مگر مجھے ہراساں نہ کیجئے‘ کے عنوان سے ایک نئی مہم شروع کی گئی ہے۔ یہ مہم ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب دنیا خواتین کے خلاف تشدد کا عالمی دن منانے کی تیاری کر رہی ہے۔

خواتین کے تحفظ کے حوالے سے شروع کی گئی مہم کی روح رواں تنظیموں ’چیلنج آرگنائزیشن‘ اور مرکز چیلنج برائے خواتین شہری کا کہنا ہے کہ ان کی مہم کا مقصد پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کے ساتھ جنسی ہراسانی کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کے حوالے سے متعلق شعور اجاگر کرنا ہے۔

ان گروپوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مہم کو موثر بنانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے دس ہزار مرد وخواتین کے ساتھ رابطے میں رہیں گی اور بسوں میں خواتین کے ساتھ جنسی چھیڑ چھاڑ جیسی مکروہ اور ناپسندیدہ حرکات کی روک تھام کے لیے ان میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

ایک مقامی سماجی کارکن بشریٰ عبدو نے بتایا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سفر کرنے والی عورتوں کو روز مرہ کی بنیاد پر ہراسانی کا سامنا ہے۔ یہ ایک ایسی مصیبت ہے جس نے خواتین کے لیے نفسیاتی مسائل پیدا کیے ہیں۔ خواتین اس حد تک خوف زدہ ہیں وہ اپنے جسموں کو دوسروں کی ملکیت سمجھنے لگی ہیں۔ ان کی یہ کیفیت جسمانی، جنسی اور نفسیاتی تشدد آمیز حملوں کا نتیجہ ہے۔

انسانی حقوق کے ایک گروپ نے جنسی ہراسانی کا شکار ہونے والی 200 خواتین کا ڈیٹا جمع کیا ہے۔ ان میں سے 54 فیصد کی عمریں 19 سے 39 سال کے درمیان اور پانچ فیصد کی 12 سے 18 سال کے درمیان ہیں۔ اکہتر فیصد خواتین کا کہنا ہے کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔