کرد جنگجوؤں اور گولن کے حوالے سے ٹرمپ سے رابطہ رکھوں گا: ایردوآن
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے منگل کے روز بتایا ہے کہ گزشتہ جمعے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں طویل عرصے کے بعد دونوں ملکوں کے مواقف ایک ہی سمت میں نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایک مرتبہ پھر رابطوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
پارلیمنٹ میں اپنی جماعت جسٹس اینڈ پیس پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ سے خطاب میں ایردوآن نے کہا کہ شام میں کُرد فورسز ، دفاعی صنعت کے شعبے اور امریکا میں مقیم تُرک مذہبی شخصیت فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک کے حوالے سے بات چیت جاری رہے گی۔
ادھر وہائٹ ہاؤس کی ترجمان یہ کہہ چکی ہیں کہ امریکا اس بات کا ارادہ رکھتا ہے کہ عراق اور شام میں داعش تنظیم کے خلاف لڑنے والی جماعتوں کے لیے عسکری سپورٹ کو کم کیا جائے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ واشنگٹن بعض جماعتوں کو عسکری ساز و سامان پیش کرنے کا سلسلہ روک سکتا ہے تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنی مکمل سپورٹ روک دے گا۔
دوسری جانب ترکا کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کو آگاہ کیا ہے کہ انہوں نے شام میں کرد جنگجوؤں کے لیے اسلحہ پیش کیے جانے کی عدم ضرورت کے حوالے سے ہدایات جاری کر دی ہیں۔ انقرہ ان جنگجوؤں کو اپنے امن و امان کے لیے خطرہ شمار کرتا ہے۔