.

’القیامہ چرچ‘ کا کلید بردار ایک مسلمان خاندان کو کیوں بنایا گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے تاریخی شہر مقبوضہ بیت المقدس میں واقع بے شمار تاریخی مذہبی اسلامی اور مسیحی مقامات میں سے ایک مقام ’کنیسہ القیامہ’ یعنی القیامہ چرچ بھی ہے جو مسیحی برادری کا مقدس مذہبی مقام ہونے کے ساتھ ساتھ عہد اسلامی کی روشن تاریخ کی بھی یاد دلاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "کنیسہ القیامہ" وہ مقام ہے جس کے بارے میں عیسائیوں کا دعویٰ ہے کہ یہاں حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام آخری مرتبہ کھڑے ہوئے اور یہیں سے اُنہیں حکمت ایزدی سے آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ ان کے قیام کی نسبت سے وہاں پر ایک چرچ بنایا گیا، جسے "قیامہ چرچ" یا کنیسہ القیامہ کہا جاتا ہے۔

تاریخی مصادر سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلے یہ چرچ سنہ 325ء میں قسطنطینی شہنشاہ کی والدہ ملکہ ھیلانہ نے تعمیر کیا۔ حضرت مسیح کے قیام کی یاد میں عیسائی روزانہ صبح اور شام اس کی چھت پر چڑھ کر کچھ لمحات کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔

مشہور سپہ سالار صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں بیت المقدس کی فتح اور صلیبیوں کی شکست فاش سے قبل اس مقدس مقام کا تمام انتظام وانصرام عیسائیوں کے پاس رہا لیکن آٹھ سو سال پیشتر یعنی 1187ء کو بیت المقدس کی صلیبیوں سے فتح کے بعد صلاح الدین ایوبی نے "کنیسہ القیامہ" کی کلید کسی عیسائی کے بجائے مسلمان خاندان کو دی اور یہ نصیحت کی اب تا ابد چرچ کی کلید اسی خاندان کے پاس رہے گی۔ آج اس چرچ کے کلید بردار 49 سالہ ادیب جواد جودہ ہیں۔ جواد کے آباؤ اجداد نے صدیوں سے عیسائی عبادت گاہ کی کلید سنھبال رکھی ہے اور بغیر کسی تنازع کے وہ اپنی اولاد کو یہ امانت سونپتے چلے جاتے ہیں۔

صلاح الدین ایوبی کی وفات کے بعد بیت المقدس کے حکمران یکے بعد دیگرے تحریری طور پر کلید بردار خاندان کی توثیق کرتے اور صلاح الدین ایوبی کی وصیت کو آگے بڑھاتے رہے۔

53 سالہ ادیب جودہ کا کہنا ہے کہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرے لیے یہ بات باعث فخر ہے کہ میں عیسائیوں کے مقدس مقام کا کلید بردار ہوں۔

ادیب جودہ کا خاندان فلسطین کےعالی نسب خاندانوں میں ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کنیسہ القیامہ کا دروازہ کھولنا ان کی ذمہ داری ہے مگر یہ آسان کام نہیں۔ چرچ کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھوں میں طاقت ہونی چاہیے کیونکہ اس کی چابی 30 سینٹی میٹر بڑی اور وزن 250 گرام ہے۔

بعض مورخین کا کہنا ہے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے کنیسہ القیامہ کی کلید برادری کی ذمہ داری ایک مسلمان خاندان کو اس لیے سونپی تھی تاکہ شہر پر عیسائی مسلمانوں پرغلبہ حاصل نہ کرسکیں۔ اس کے علاوہ اقدام کے مالی فواید بھی تھے۔ چرچ میں آنے والوں کے لیے عاید کردہ ٹیکس انہیں دروازے پر ہی ادا کرنا ہوتا تھا۔

بیت المقدس کو تین آسمانی مذاہب کے پیرو کاروں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس کے علاقوں پر سنہ 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں قبضہ کیا اور اردن سے یہ علاقہ واپس لے لیا۔ اس کے بعد اسرائیل متحدہ القدس کو صہیونی ریاست کا ابدی دارالحکومت قرار دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے مگر فلسطینی، اسرائیل کے دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔ عالمی برادری نے بھی مشرقی بیت المقدس پر اسرائیل کے قبضے کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

ادیب جودہ کا کہنا ہے کہ عیسائی مذہبی مقام کی کلید برداری کے 800 سالہ سفر کے دوران متعدد چابیاں خراب ہو چکیں، مگر وہ ان کے خاندان کے پاس محفوظ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میری عمر آٹھ سال تھی جب میں نے کنیسہ القیامہ کے چرچ کی ذمہ داری سنھبالی اور اب ذمہ داری کو نبھاتے 30 سال بیت گئے ہیں۔ میں کنیسہ القیامہ کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں۔

عیسائی خاتون دانشور ایسکار ھارانی کا کہتی ہیں کہ مسیحی برادری کی عبادت گاہ کی کلید برداری ایک مسلمان خاندان کے ہاتھ میں ہونے کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ فلسطین کے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان امن قائم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چرچ فلسطین میں امن بقائے باہمی کی ایک زندہ علامت ہے۔