ایران میں پرامن مظاہرین پر طاقت کا استعمال جاری،200 شہری گرفتار
ایران میں حکومت مخالف عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ کل اتوار کو ملک کے درجنوں شہروں میں مہنگائی، غربت، بے روزگاری کے خاتمے میں حکومت کی ناکامی اور ملائیت کی آمریت کے خلاف مظاہرے جاری رہے۔
رات گئے سال نو کی پہلی شب پر بھی بڑی تعداد میں شہریوں نے سڑکوں پر احتجاج جاری رکھا۔ دوسری جانب ایرانی فوج اور پولیس نے مظاہرین کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔ تازہ کریک ڈاؤن میں 200 مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر ایران میں ہونے والے احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں جن میں جگہ جگہ ہونے والے احتجاج کی جھلکیاں دکھائی گئیں۔
Day 4. First day of protests in the city of Bukan, NW Iran. pic.twitter.com/ADhVMPUIBp
— IranWire (@IranWireEnglish) December 31, 2017
تہران کے ڈپٹی گورنر علی اصغر ناصر بخت نے اتوار کو بتایا کہ پولیس نے دارالحکومت سے 200 مظاہرین کو حراست میں لیا ہے۔
خبر رساں ادارے ’ایلنا‘ کے مطابق نائب گورنر کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے تمام افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے گئے بعض طلباء کو رہا کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گرفتار کیے گئے افراد میں ایسے 40 افراد بھی شامل ہیں جو غیر قانونی طور پر ملک میں احتجاج منظم کرنے میں پیش پیش تھے۔
حکومت نے احتجاج کی شدت کم کرنے کے لیے موبائل فون پر ٹیلی گرام کی رسائی محدود کردی ہے۔
دریں اثناء مشتعل مظاہرین کی بڑی تعداد نے تہران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ کے باہر بھی احتجاج کیا ہے۔ تہران میں باستور روڈ پر واقع سپریم لیڈر کی رہائش گاہ کو سیکیورٹی اہلکاروں اور پولیس نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔
شھرو ندیار ٹی وی نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ مظاہرین کا ایک ھجوم کل شام سپریم لیڈر کی رہائش کے باہر جمع ہوا جہاں انہوں نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
-
امریکی صدر کو ایرانی مظاہرین سے ہمدردی کا کوئی حق نہیں : حسن روحانی
ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کو ...
بين الاقوامى -
ایران میں جاری بد امنی ایک بڑی تحریک کا پیش خیمہ ہے : شیریں عبادی
ابتر اقتصادی صورت حال اور امیرو غریب میں بڑھتا ہوا فرق احتجاجی مظاہروں کی جڑ ...
بين الاقوامى -
ایران میں احتجاجی مظاہروں کے بعد موبائل فونز پر سوشل میڈیا کی رسائی محدود
ایران کے مختلف شہروں میں گذشتہ تین روز سے جاری حکومت مخالفت مظاہروں کے بعد ...
بين الاقوامى