حزب اللہ کے حامیوں نے بیروت ایئرپورٹ روڈ پر نصب "لبنان اولاً" اور "لبنان بیجمعنا" (لبنان ہمیں متحد کرتا ہے) کے نعروں پر مبنی متعدد بینرز کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔ یہ واقعہ "شکریہ ایران" کے بینرز ہٹائے جانے کے چند روز بعد پیش آیا ہے۔
متعدد لبنانی شہریوں نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی ہیں جن میں ان نئے بینرز کو جلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم اس واقعے کی تفصیلات یا ذمہ داروں کی شناخت کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب لبنانی فوج پہلے ہی تنبیہ کر چکی ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے اور افراتفری پھیلانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے حوالے سے کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی۔
عناصر من "حزب الله" يشعلون النار في لوحة إعلانية كبيرة تحمل شعار "لبنان أولًا" على أحد الطرق العامة pic.twitter.com/ZalAUSZ0vT
— ا لـحـدث (@AlHadath) June 27, 2026
اس سے قبل گذشتہ جمعرات کو لبنانی وزیر داخلہ و بلدیات احمد الحجار نے ایران کے حق میں لگائے گئے بینرز کو ہٹانے کی ہدایت کی تھی، جس نے ملک میں کافی تنازع کھڑا کر دیا تھا۔
دوسری طرف "حزب اللہ" کے زیر اثر جنوبی ضاحیہ کی بلدیات کی یونین نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ یہ تشہیری مہم عاشورہ کی تقریبات کے سلسلے میں سڑکوں پر موجود بل بورڈز کی مالک کمپنی کے ساتھ رابطہ کاری کے بعد شروع کی گئی تھی۔
ایران کے حق میں بینرز امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے چند دن بعد لگائے گئے تھے، جن پر "وفادار ایران کا شکریہ" کے ساتھ ساتھ ایرانی رہبر مجتبیٰ خامنہ ای اور ان کے والد علی خامنہ ای کی تصاویر بھی موجود تھیں۔
تاہم ان بینرز پر ملک کے اندر سے شدید اعتراضات اٹھائے گئے خاص طور پر اس لیے کہ یہ اقدام لبنانی حکومت کی جانب سے بیروت رفیق حریری انٹرنیشنل ایئرپورٹ روڈ سے تمام سیاسی اور جماعتی بینرز ہٹانے کے چند ماہ بعد کیا گیا تھا، جس کا مقصد اس اہم تنصیب کو سیاسی پیغامات سے دور رکھنا تھا۔
لبنان-اسرائیل معاہدے کی تفصیلات
یہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب بیروت کے جنوبی مضافات میں افراتفری اور ہنگامہ آرائی دیکھی گئی۔ حزب اللہ کے حامیوں نے واشنگٹن میں امریکی سرپرستی میں ہونے والی مذاکرات کے پانچویں دور کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان دستخط شدہ فریم ورک معاہدے کے خلاف مظاہرے کیے۔
بعد ساعات من توقيع الاتفاق مع إسرائيل.. نبيه بري يحذر من "فتنة بين اللبنانيين".. وشعار "لبنان أولاً" يزين طريق مطار بيروت pic.twitter.com/xcO3X3IHX4
— ا لـحـدث (@AlHadath) June 28, 2026
اس معاہدے کی رو سے تمام غیر سرکاری مسلح گروہوں کے غیر مسلح ہونے کی تصدیق کے بعد لبنانی مسلح افواج کو پورے لبنان میں اپنا اختیار بحال کرنا ہوگا، جس سے اسرائیلی فوج کو لبنانی علاقوں سے بتدریج انخلا کی راہ ہموار ہوگی۔ لبنانی فریق نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنانی سکیورٹی فورسز ہی ملک کی سلامتی اور دفاع کے لیے خصوصی ذمہ دار ہیں اور جنگ و امن کے فیصلوں کا حتمی اختیار انہی کے پاس ہے۔
-
اسرائیل اور لبنان کے درمیان معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں: فرانس
یہ معاہدہ لبنانی ریاست کے ہاتھوں میں اسلحہ کے انحصار اور اسرائیل کے انخلا کا باعث ...
بين الاقوامى -
اسرائیل ، لبنان معاہدے پر عمل میں رکاوٹ بنا تو ایران کے خلاف فوجی قوت استعمال کریں گے:کاٹز
اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے ہفتے کے روز پر زور انتباہ کیا ہے کہ ایران نے اسرائیل و ...
مشرق وسطی -
نیتن یاہو: لبنان کے ساتھ معاہدہ اسرائیل کے لیے ’تاریخی کامیابی‘ ہے
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہفتے کے روز لبنان کے ساتھ امریکہ کی ثالثی ...
مشرق وسطی