.

ایران میں پرامن مظاہرین کی ہلاکتوں اور کریک ڈاؤن کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ماہرین اور مندوبین برائے انسانی حقوق نے ایران میں فوج اور پولیس کے ہاتھوں دسیوں نہتے مظاہرین کے قتل عام اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن کی شدید مذمت کی ہے۔ مندوبین نے ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام کا معاشی استحصال بند کرتے ہوئے شہریوں کے تمام بنیادی حقوق انہیں فراہم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے مندوبین پاکستانی وکیل عاصمہ جہانگیر، آزادئ اظہار رائے کے خصوصی ایلچی ڈیوڈ کائی، ماورائے قانون اور ماورائے عدالت شہریوں کا قتل روکنے کے لیے مقرر کردہ مندوب اگنیس کالامارڈ، دفاع برائے انسانی حقوق کےمندوب میشل فورسٹ اور دیگر نے جنیوا میں ایک مشترکہ بیان میں ایران میں پرامن مظاہرین کو کچلنے کی سرکاری پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران میں پرامن احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں پر پولیس کےدھاووں کےنتیجےمیں 20 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ مرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے مندوبین ایران میں پرامن مظاہرین کو طاقت کے ذریعے دبانے کی حکومتی پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ایران میں شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کی سرگرمیوں پر قدغنیں لگانے پر بھی انہیں شدید تشویش لاحق ہے۔ اس کے علاوہ حراست میں لیے گئے افراد پر تشدد پر مبنی حربوں کے استعمال کا بھی خدشہ ہے۔

بیان میں ایرانی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ حالیہ احتجاجی تحریک کے دوران گرفتار کیے گئے تمام افراد کے ٹھکانوں اور ان کی طبی حالت کے بارے میں مفصل معلومات فراہم کریں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو اسیران تک رسائی کی اجازت دیں۔ گرفتار افراد کو وکلاء کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت دی جائے اور ان کے ماورائے عدالت قتل سے اجتناب کیا جائے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو پرامن مظاہرین کےخلاف طاقت کے استعمال کی اجازت دینا اور عدلیہ کی طرف سے مظاہرین کو کڑی سزائیں دینے کی دھمکیاں ناقابل قبول ہیں۔ ایرانی حکومت عوام کے خلاف طاقت کے استعمال کے بجائے ان کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے۔

خیال رہے کہ ایران میں دو ہفتے سے جاری احتجاج کی تحریک دبانے کے لیے حکومت نے پرتشدد حربے استعمال کرنا شروع کیے ہیں۔ ایرانی پولیس اور سپاہ پاسداران انقلاب کے کریک ڈاؤن میں سیکڑوں شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ مظاہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کے تشدد سے ان کے کم سے کم 50 کارکن جاں بحق ہوچکے ہیں۔