.

تیونس : مختلف شہروں میں مہنگائی کے خلاف احتجاج جاری ، 200 گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے مختلف شہروں میں مہنگائی اور ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں دسیوں افراد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ دو سو سے زیادہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

تیونس کی وزارت داخلہ کے ترجمان خلیفہ الشیبانی نے مقامی ریڈیو کو بتایا ہے کہ ملک بھر میں جھڑپوں کے دوران میں 49 پولیس افسر زخمی ہوئے ہیں اور مختلف علاقوں سے گڑ بڑ پھیلانے کے الزام میں 206 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔مظاہرین نے احتجاج کے دوران میں نجی اور سرکاری املا ک کو نقصان پہنچایا ہے اور دارالحکومت تیونس کے نواح میں ایک سپر مارکیٹ کی مقامی شاخ کو لوٹ لیا گیا ہے۔

سوموار کی شب تیونس سے 30 کلومیٹر مغرب میں واقع قصبے طبربہ میں احتجاجی مظاہرے کے دوران میں مرنے والے ایک شخص کی منگل کی شب نماز جنازہ ادا کی گئی ،اس کے بعد اس قصبے میں سیکڑوں نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور حکومت نے مظاہروں پر قابو پانے کے لیے پولیس اور مسلح افواج کو طلب کر لیا ہے۔

تیونسی دارالحکومت کے علاوہ جنوبی شہر قفصہ ، وسطی شہر قروین اور سیدی بوزید سے بھی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی ریلیوں کی اطلاع ملی ہے۔ تیونسی شہر ی حکومت کی جانب سے نئے سال کے آغاز پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں اضافے اور سماجی بھلائی کے لیے متعارف کردہ نئی کٹوتیوں کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ سات سال پہلے جنوری 2011ء میں تیونس ہی میں سب سے پہلے عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کو حکومت چھوڑنا پڑی تھی ۔اس کے بعد شمالی افریقا میں واقع اس ملک میں ہر سال جنوری میں اس انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر احتجاجی مظاہرے کیے جاتے ہیں ۔

سابق صدر بن علی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے عام تیونسیوں کی زندگی میں کوئی تبدیلی رو نما نہیں ہوئی ہے اور ان کے معاشی حالات جوں کے توں ہیں۔البتہ تیونس میں دوسرے عرب بہاریہ ممالک کے برعکس انتقال اقتدار کا عمل پرامن طریقے سے انجام پا رہا ہے اور ملک میں اس وقت ایک جمہوری حکومت قائم ہے۔