.

افغانستان : داعش کے حملے کے بعد ’’سیو دا چلڈرن‘‘ کے پروگرام معطل

جلال آباد میں برطانوی تنظیم کے دفتر پر خودکش کار بم حملے اور فائرنگ سے 4 افراد ہلاک ، 14 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں برطانوی خیراتی ادارے سیو دا چلڈرن کے دفتر پر خودکش کار بم حملے اور فائرنگ سے چار افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوگئے ہیں۔اس حملے کے بعد بچوں کے کام کرنے والی اس امدادی تنظیم نے جنگ زدہ ملک میں عارضی طور پر اپنے پروگرام معطل کر دیے ہیں۔

افغان حکام اور میڈیا کی اطلاع کے مطابق جنگجوؤں نے مقامی وقت کے مطابق بدھ کی صبح نو بج کر دس منٹ پر سیو دا چلڈرن کے جلا ل آباد میں دفتر پر حملہ کیا تھا۔سب سے پہلے ایک خود کش بمبار نے تنظیم کی عمارت کے داخلی دروازے پر اپنی بارود سے بھری گاڑی کو دھماکے سے اڑایا تھا۔

اس کے بعد داعش کے دوسرے جنگجوؤں نے عمارت کا محاصرہ کر لیا تھا ۔اس حملے کی اطلاع ملنے کے بعد افغان فورسز کے اہلکار وہاں پہنچ گئے تھے اور پھر ان کی جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ شروع ہوگئی تھی ۔حملے میں برطانوی تنظیم کے عملہ کے تین ارکان اور ایک فوجی ہلاک ہوا ہے۔حملے کے وقت عمارت کے اندر چھیالیس افراد موجود تھے ۔ انھوں نے خود کو ایک محفوظ کمرے میں چھپا لیا تھا۔

ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ عمارت کے باہر بم دھماکے کے بعد بچے اور بڑے ادھر ادھر بھاگنا شروع ہوگئے تھے۔پہلے ایک گاڑی کو آگ لگی تھی اور ا س کے بعد فائرنگ شروع ہوگئی تھی۔صوبہ ننگرہار کے گورنر کے ترجمان نے کہا ہے کہ پانچ حملہ آوروں نے برطانوی تنظیم کے دفاتر پر حملہ کیا تھا اور ان تمام کو سکیورٹی فورسز نے کارروائی میں ہلاک کردیا ہے ۔

سیو دا چلڈرن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کو انسانی امداد کام کرنے والوں کے خلاف تشدد پر گہرا صدمہ پہنچا ہے اور افسوس ہوا ہے۔اس نے کہا ہے کہ وہ ملک بھر میں عارضی طور پر اپنی سرگرمیاں معطل کررہی ہے لیکن اس کے باوجود وہ حالات بہتر ہوتے ہی افغانستان میں سب سے پسماندہ اور محروم بچوں کو امداد مہیا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

داعش نے اپنی خبری ویب گاہ اعماق پر جاری کردہ ایک پیغام میں کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے جلال آباد میں برطانوی ، سویڈش اور افغان اداروں کو حملے میں نشانہ بنایا تھا۔واضح رہے کہ ننگرہار کو افغان داعش کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے اور انھوں نے اس صوبے کے دور دراز علاقوں میں اپنی خفیہ پناہ گاہیں رکھی ہیں۔

طالبان کی طرح وہ بھی افغان فورسز اور غیرملکیوں پر آئے دن حملے کرتے رہتے ہیں۔داعش نے گذشتہ مہینوں کے دوران میں دارالحکومت کابل اور بعض دوسرے شہروں میں متعدد تباہ کن حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔