.

یورپ نقل مکانی شرعا حرام ہے، الجزائر میں فتویٰ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک الجزائرکی سپریم اسلامی کونسل نے ایک نیا فتویٰ جاری کیا ہے جس میں جمعرات کو جاری کردہ وزارت مذہبی امورو واوقاف کے اس بیان کی تائید کی گئی ہے جس میں الجزائری شہریوں کی خفیہ طریقےسے یورپ منتقلی کو کو حرام قرار دیا گیاتھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الجزائر کے وزیر برائے مذہبی امور محمد عیسیٰ نے سپریم اسلامی کونسل کے فتوے کی تائید کی ہے۔ اس فتوے میں الجزائر سے شہریوں کی غیرقانونی یورپ منتقلی کو شرعام حرام قرار دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ بیرون ملک غیرقانونی نقل مکانی کو حرام قرار دینے سے متعلق یہ فتویٰ اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔

الجزائر کے وزیر برائے لوکل گورنمںٹ نے سپریم کونسل کے فتوے کی تائید کی ہے مگر ساتھ ہی کہاہے کہ محض فتوے بازی سے شہریوں کو یورپ ھجرت سے روکنا کافی نہیں ہوگا۔ حکومت نوجوان طبقے کو بنیادی مراعات فراہم کرے تاکہ نوجوانوں کا یورپ کی طرف نقل مکانی کا رحجان کم ہو۔ اسی طرح علما ء کرام مساجد میں وعظ وتبلیغ کے ذریعے بھی نوجوانوں کو اپنے وطن سے وابستگی اختیار کرنے کی تلقین کریں اور انہیں یورپ جانے سے روکنے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیں۔

خیال رہے کہ الجزائر سے یورپ کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ نیا نہیں۔ مگر نقل مکانی اور ھجرت کے دوران پیش آنے والے المناک واقعات سے افریقی ملکوں کی حکومتیں سخت پریشان ہیں۔ بعض اوقات یورپ میں نقل مکانی کے دوران پیش آنے والے حادثات کے نتیجے میں پورے کے پورے خاندان لقمہ اجل بن گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل رہے ہیں۔

الجزائری حکام کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی یورپ منتقلی کی ایک وجہ سوشل میڈیا ہے۔ نوجوان سوشل میڈیا پر نقل مکانی پر اکسانی والی مہمات سے متاثر رہتے ہیں۔

نقل مکانی کی روک تھام کے حوالے سے جاری کردہ فتوے پر شہریوں کی جانب سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ بعض عوامی حلقوں نے اسے حکومت کی سیاسی فواید حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کو موجودہ بحرانوں اور نقل مکانی کی روک تھام سے نکالنے لیے فتوے سے ہٹ کردیگر اقدامات بھی کیے جاسکتے ہیں۔