.

کابل : طالبان کے خودکش کار بم دھماکے میں 95 افراد ہلاک ، 160 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک مصروف علاقے میں ہفتے کے روز خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں پچانوے افراد ہلاک اور اکم سےکم ایک سو ساٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ طالبان مزاحمت کاروں نے اس تباہ کن بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

افغان حکام کے مطابق خودکش بمبار نے حملے کے لیے ایمبولینس گاڑی استعمال کی ہے۔ افغان پارلیمان کے ایک رکن میر ویس یاسینی نے بتایا ہے کہ حملہ آور نے بارود سے بھری ایمبولینس کو اعلیٰ امن کونسل اور متعدد سفارت خانوں کے نزدیک واقع ایک چیک پوائنٹ پر دھماکے سے اڑا یا ہے۔ میر ویس دھماکے کی جگہ کے نزدیک ہی موجود تھے۔

وزارتِ داخلہ کے نائب ترجمان نصرت رحیمی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’’ خودکش حملہ آور پہلے شہر کے وسط میں قائم ایک چیک پوائنٹ سے یہ کہہ کر گزرنے میں کامیاب ہوگیا تھا کہ وہ ایک مریض کو جمہوریت اسپتال میں لے جارہا ہے لیکن دوسرے چیک پوائنٹ پر ا س کی شناخت ہوگئی اور اس نے وہاں بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑا دیا‘‘۔

افغانستان میں اٹلی کے ایک امدادی گروپ ایمرجنسی کے رابطہ کار دی جان پینک کا کہنا ہے کہ یہ ایک قتل عام ہے۔ایمرجنسی کے زیر اہتمام جائے وقوعہ کے نزدیک واقع ٹراما اسپتال میں سات لاشوں اور ستر زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے۔

محکمہ صحت کے ترجمان وحید مجروح نے تباہ کن بم دھماکے میں پچانوے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ قبل ازیں ان کا کہنا تھا کہ شہر کے مختلف اسپتالوں میں سترہ مہلوکین کی لاشیں اور 110 زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے اور مزید مجروحین اور مقتولین کو بھی لایا جارہا ہے۔

دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور اس کی لرزش بھی کئی میٹر دور تک محسوس گئی ۔دھماکے کی شدت سے قرب وجوار میں واقع عمارتوں اور دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں اور بعض عمارتوں کی چھتیں زمین بوس ہو گئی ہیں۔کابل میں گذشتہ سال 31 مئی کو سفارتی زون میں ٹرک بم دھماکے کے بعد یہ سب سے تباہ کن حملہ ہے۔