.

امریکا میں قطر کے خلاف عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کی میزبانی کے لیے’’چمک‘‘ کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں قطر کے خلاف عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کی میزبانی کے حصول میں ’’چمک‘‘ کی کارفرمائی کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ قطر نے 2014ء میں 2019ء میں ہونے والے عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ ٹورنا منٹ کے انعقاد کے حقوق حاصل کیے تھے اور تب ہی قطر کے خلاف حرف زنی شروع ہوگئی تھیں ۔اس کے علاوہ اس پر 2022ء میں فٹ بال کے عالمی کپ کی میزبانی کے لیے فیفا کے عہدے داروں کو بھاری رقوم دینے کے الزامات بھی عاید کیے گئے تھے اور اب ان کی سوئٹزر لینڈ اور امریکا میں تحقیقات کی جارہی ہے۔

قطر کے خلاف عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کی میزبانی کے حصول میں کامیابی پر اس لیے بھی انگلیاں اٹھائی گئی تھیں کیونکہ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ایتھلیٹکس فیڈریشن ( آئی اے اے ایف) نے میزبانی کے لیے ایک اور مضبوط امیدوار شہر بارسلونا (اسپین ) کو نظر انداز کردیا تھا اور اس پر دوحہ کو ترجیح دی تھی حالانکہ وہ اولمپک گیمز کے انعقاد کے تجربے کا بھی حامل تھا۔

نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا کے وفاقی پراسیکیوٹر اب کھیلوں کے عالمی مقابلوں کی میزبانی تفویض کرنے کے عمل میں کرپشن کی کارفرمائی کی تحقیقات کررہے ہیں۔ان میں فیفا، بین الاقوامی اور امریکا کی اولمپکس تنظیموں کے خلاف تحقیقات بھی شامل ہیں۔ان تحقیقات کے حصے کے طور پر امریکا کا محکمہ انصاف منی لانڈنگ اور فراڈ کے الزامات کی بھی تحقیقات کررہا ہے۔

نیویارک کے مشرقی علاقے بروکلین میں واقع امریکی اٹارنی کا دفتر قطر کے خلاف یہ تحقیقات کررہا ہے ۔اسی نے اس سے پہلے فیفا کے تحت مختلف فٹ بال کے مختلف عالمی مقابلوں اور ان کے ٹیلی ویژن حقوق تفویض کرنے اور روس میں منظم ڈوپنگ کی تحقیقات کی تھی۔ اس نے القاعدہ کی دہشت گردی کی کارروائیوں کی بھی تحقیقات کی تھی۔

امریکی تحقیقات کارو ں نے بعض افراد اور کمپنیوں کے 2013ء کے بعد سے بنک کھاتوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے ہدایت کی ہے۔واضح رہے کہ فرانسیسی اخبار لی موندے نے 2016ء میں اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ دوحہ نے آئی اے اے ایف کے سینی گال سے تعلق رکھنے والے سابق صدر لامین ڈیاک کے بیٹے پاپا مساتا ڈیاک کو ٹورنا منٹ کی میزبانی کے حصول کے لیے 50 لاکھ ڈالرز ادا کیے تھے۔ وہ اپنے باپ کی صدارت کے زمانے میں فیڈریشن کے ما رکیٹنگ کنسٹلنٹ کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔

برطانوی اخبار دا گارڈین نے بھی متعلقہ پارٹیوں کے درمیان برقی مراسلت اور ٹیکس حکام کی جانب سے فراہم کردہ تفصیل شائع کی تھی ۔اس میں قطر کے انویسٹمنٹ فنڈ اور پاپا مساتا ڈیاک کی ملکیتی اسپورٹس مارکیٹنگ کمپنی کے درمیان رقوم کی منتقلی کی تفصیل بھی شامل تھی۔پاپا ڈیاک کو بعد میں کرپشن میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

یادرہے کہ دوحہ 1995ء میں فیفا عالمی یوتھ چیمپئن شپ اور 2015ء میں مردوں کے عالمی ہینڈبال چیمپئن شپ ٹورنا منٹ کی میزبانی کرچکا ہے۔ قطر مختلف کھیلوں کے عالمی مقابلوں کی میزبانی کے ذریعے دراصل اپنا عالمی تشخص بہتر بنانا چاہتا ہے کیونکہ اس پر مشرق وسطیٰ کے خطے میں دہشت گردی اور دہشت گرد گروپوں کی حمایت کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں اور چار عرب ممالک سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے گذشتہ سال جون سے اس کا سفارتی ، سیاسی اور تجارتی بائیکاٹ کررکھا ہے۔