.

ایرانی معروف شخصیات کا نظام کی تبدیلی کے لیے عام ریفرینڈم کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق ، تالیف و تصنیف ، ثقافت اور سیاست سے تعلق رکھنے والی مشہور ایرانی شخصیات نے ایک مشترکہ بیان میں ایران میں حکمراں نظام کے بارے میں کہا ہے کہ اس نظام کا "ناکام ہونا ثابت ہو چکا ہے"۔ اتوار 11 فروری کو جاری ہونے بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ "ملک میں مستقبل کے نظام کے خدوخال کا تعین کرنے کے واسطے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ایک عام ریفرینڈم کرایا جائے"۔

بیان پر دستخط کرنے والی 15 شخصیات نے ایران میں موجودہ نظام کو "آواز دبانے والا ایک ناقابل اصلاح نظام" قرار دیا ہے جس نے چار دہائیوں سے مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔

مذکورہ شخصیات کے مطابق اس نظام نے مذہب کو اپنے مفادات کے لیے "ذریعہ" بنایا اور وہ ایرانی عوام کی آزادی اور امیدوں کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ہے۔

بیان پر دستخط کرنے والوں نے ایرانی عدلیہ اور ملکی قوانین پر کڑی نکتہ چینی کی۔ انہوں نے عدلیہ اور مقننہ دونوں اداروں کے ذمّے داران کو "قابلیت نہ رکھنے والے جہلاء" قرار دیا اور ان عناصر پر ریاستی ڈھانچے کو مفلوج کرنے اور بدعنوانی پھیلانے کا الزام عائد کیا۔

بیان میں ایران میں امتیاز، بدعنوانی کے پھیلاؤ اور عوام کے مال اور املاک عامہ کی چوری اور لوٹ مار پر بھی تنقید کی گئی۔ بیان کے مطابق ملک میں نافذ قوانین "امتیاز اور تشدد" کو رواج دے رہے ہیں۔

بیان میں عدلیہ کی جانب سے تنگ کیے جانے ، اندھادھند گرفتاریوں اور ظالمانہ قید کے احکامات کی جانب بھی اشارہ کیا گیا جس نے حکام پر تنقید کے الزام میں خواتین، وکیلوں، صحافیوں، اساتذہ، یونی ورسٹی طلبہ، مزدوروں، سیاسی اور سماجی کارکنان کو بھی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

دستخط کرنے والی شخصیات کے نزدیک ملک جس بحران اور سیاسی مسائل سے دوچار ہے ان سے نکلنے کا حل "حالیہ اسلامی جمہوریہ کے نظام کے پر امن طور پر دست بردار ہونے" میں پوشیدہ ہے۔ ساتھ ہی ایک جمہوری بنیادوں پر ایک ایسا پارلیمانی نظام عمل میں لایا جائے جو رائے عامہ اور انسانی حقوق کی آزادی کی ضمانت دیتا ہو۔ اس نظام کے نتیجے خواتین کے خلاف منظم امتیاز کا خاتمہ ہو اور ثقافت ، سماج ، سیاست اور معیشت کے تمام شعبوں میں مرد عورت، اقوام، مذاہب اور مسالک کے بیچ مساوات کے بنیادی اصول پوری طرح عمل میں آئیں۔

بیان پر دستخط کرنے والی شخصیات انسانی حقوق کی کارکن اور ایڈوکیٹ نسرین ستودہ، امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی ایڈووکیٹ شیرین عبادی، جیل میں بند انسانی حقوق کی کارکن اور ایڈوکیٹ نرجس محمدی، انسانی حقوق کے میدان میں بین الاقوامی وکیل بیام اخوان، فلم ڈائریکٹر جعفر بناہی، سیاسی کارکن محسن سازكارا، انسانی حقوق کے دفاعی وکیل محمد سيف زاده، سیاسی کارکن حسن شريعتمداری، سیاسی کارکن حشمت الله طبرزدی، سیاسی کارکن ابوالفضل قديانی، سیاسی کارکن اور حزب اختلاف کے لکھاری محسن كديور، محقق اور ماہر عمرانیات کاظم کردوانی، فلم ڈائریکٹر محسن مخملباف ، سیاسی کارکن محمد ملكی اور سیاسی کارکن اور فلم ڈائریکٹر محمد نوری زاد ہیں۔

واضح رہے کہ اتوار کے روز ایرانی صدر حسن روحانی نے ملک میں اسلامی انقلاب کی 39 ویں سال گرہ کے موقع پر خطاب میں "ایران میں عام ریفرینڈم کے اجرا" کا مطالبہ کیا تا کہ ملک کو درپیش بندش سے باہر آیا جا سکے۔

اس سے قبل روحانی نے ایران کے مرشد اعلی علی خامنہ ای کو خبردار کیا تھا کہ اگر عوام کی آراء پر کان نہ دھرا گیا تو موجودہ نظام کا سقوط بھی ہو سکتا ہے اور خامنہ ای کو بھی شاہ ایران کے انجام کا سامنا کرنا پڑے گا"۔