.

سامی عنان کے پاس کیا خفیہ دستاویزات ہیں؟ مصری فوج تحقیقات کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری فوج نے ملک کے انسداد بدعنوانی کے محکمے کے سابق سربراہ ہشام جنینہ اور سابق چیف آف اسٹاف سامی عنان کے خلاف ریاستی راز فاش کرنے کے الزام میں کارروائی کا ا علان کیا ہے۔

ریٹائرڈ آرمی جنرل سامی عنان اس وقت فوج کے زیر حراست ہیں اور ہشام جنینہ ان کی مختصر صدارتی مہم کے دوران میں پیش پیش رہے تھے لیکن ’’حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے ہی مرجھا گئے‘‘ کے مصداق ان کی صدارتی مہم چند روزہ ہی ثابت ہوئی تھی اور فوج نے انھیں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے روک دیا تھا اور گرفتار کر لیا تھا۔

ہشام جنینہ نے اب ان کے لیے ایک نئی مصیبت کھڑی کردی ہے۔انھوں نے اتوار کو شائع شدہ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ سامی عنان کے پاس ایسی دستاویزات ہیں جن میں ریاستی راز ہیں اور اہم واقعات کے بارے میں تفصیل ہے۔

اس کے ردعمل میں مصری فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہشام جنینہ کے دعوے جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کا مقصد ریاست اور اس کے اداروں کے بارے میں شکوک پیدا کرنا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ اب اس معاملے کی تحقیقات کی جائے گی اور یہ تحقیقات کاروں کے حوالے کیا جائے گا۔نیز سامی عنان اور جنینہ کے خلاف ضروری قانونی کارروائی کی جائے گی ۔اس کا مزید کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام آئینی اور قانونی اختیارات استعمال کیے جائیں گے۔

دوسری جانب سامی عنان کے بیٹے سمیر نے ہشام جنینہ کے اپنے والد کے حوالے سے بیان کی تردید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسی کوئی دستاویزات نہیں ہیں جن میں ریاست یا اس کی قیادت کی مذمت کی گئی ہو۔

سابق جنرل کے مصری وکیل ناصر امین نے اپنے فیس بُک صفحے پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں ان دعووں کو بے بنیاد ، غلط اور خلاف حقیقت قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ میڈیا کو بیان دینے والے ایسے کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی کریں گے جو سامی عنان سے ایسے الفاظ اور فعل منسوب کرے گا جس سے ان کے خلاف کسی قانونی کارروائی کا امکان پیدا ہوسکتا ہو یا کوئی سماجی خطرہ پیدا ہوسکتا ہو۔