.

شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے تو فرانس "کارروائی" کرے گا : ماكروں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں کا کہنا ہے کہ شام کے تنازع میں اگر شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے تو "فرانس کاری ضرب" لگائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس بات کے کوئی ثبوت نظر نہیں آئے ہیں۔

منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ماکروں کا کہنا تھا کہ "کیمیائی ہتھیاروں کے حوالے سے میں نے ایک سرخ لکیر وضع کر رکھی ہے۔ ابھی تک ہماری ایجنسیوں اور مسلح افواج نے شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جانے کی تصدیق نہیں کی ہے"۔

جمعے کے روز روسی صدر ولادیمر پوتین کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے میں ماکروں نے حالیہ عرصے میں شام میں شہریوں کے خلاف کلورین بموں کے استعمال کے شواہد پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ روس نے سلامتی کونسل میں مغربی ممالک کی اُن تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا جو بشار الاسد حکومت کی جانب سے اپنے عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کی مذمت کے لیے کی گئیں۔

ماسکو کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کی مذمت کے لیے کسی قسم کے ثبوت موجود نہیں ہیں جب کہ مغربی ممالک روس پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ بشار الاسد کو اپنے جرائم کے نتائج کا سامنا کرنے سے بچانے کے لیے کام کر رہا ہے۔