.

2019ء میں اوپیک کی تیل پیداوار پر عاید قدغنوں میں نرمی کی جاسکتی ہے: سعودی وزیر توانائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے تیل ، صنعتوں اور قدرتی وسائل کے وزیر خالد الفالح کہا ہے کہ 2019ء کے اوائل میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور اس کے اتحادی ممالک کے درمیان یومیہ پیداوار کی تحدیدات میں میں نرمی کے لیے ایک مستقل سمجھوتے پر بات چیت جاری ہے۔

العربیہ نیوز چینل کے مطابق سعودی وزیر تیل نے کہا کہ اوپیک کے رکن اور غیر رکن ممالک کے درمیان ایک مستقل میکانزم کے قیام پر بھی غور کیا جار ہا ہے تاکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام کو برقرار رکھا جاسکے اور موجودہ سمجھوتے کے تحت مارکیٹ کی موثر نگرانی کی جاسکے۔

خالد الفالح نے کہا کہ اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک تیل کی مارکیٹ میں توازن اور استحکام لانے کے لیے پُرعزم تھے ۔ انھوں نے اس ا مید کا اظہار کیا ہے کہ آیندہ سال پیداوار پر عاید قدغنوں میں نرمی ممکن ہوسکے گی۔اس وقت صورت حال کا جائزہ لیا جارہا ہے اور جب ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ مارکیٹ میں توازن کے لیے کیا کیا جانا چاہیے تو پھر ہم آیندہ اقدام کا اعلان کریں گے۔یہ آیندہ قدم پیداوار پر عاید قدغنوں میں نرمی ہوسکتا ہے۔

انھوں نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہفتے کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’میرا اندازہ یہ ہے کہ ایسا 2019ء میں کسی وقت ہوگا لیکن فی الوقت ہم یہ نہیں جانتے ہیں کہ ایسا کب ہوگا اور کیسے ہوگا؟‘‘

اوپیک اور روس سمیت غیر اوپیک ممالک کے درمیان طے شدہ سمجھوتے کے تحت اس وقت تنظم کی یومیہ پیداوار میں 12 لاکھ بیرل کی کمی کی جارہی ہے۔اوپیک کے رکن ممالک نے نومبر2016ء میں تیل کی یومیہ پیداوار میں قریباً 18 لاکھ بیرل کمی سے اتفاق کیا تھا اور اس فیصلے پر جنوری 2017ء سے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔

اس سمجھوتے کی مدت مارچ میں ختم ہورہی تھی لیکن تنظیم نے گذشتہ سال نومبر میں ویانا میں منعقدہ اپنے اجلاس میں اس مدت میں مزید نو ماہ کی توسیع کردی تھی اور 2018ء کے اختتام تک پیداوار میں یہ کٹوتی برقرار ر کھی جائے گی۔البتہ اس کا کہنا تھا کہ اگر عالمی مارکیٹ میں اس دوران میں تیل کی قیمتوں میں بہتری آتی ہے تو پھر اس فیصلے پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے۔