.

قطری نیوز ایجنسی کا کارنامہ: ٹرمپ اور تمیم کے بیچ "ایرانی خطرے" کا موضوع نظر انداز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے درمیان ٹیلیفون پر بات چیت کے دوران ایران کی صورت میں درپیش علاقائی خطرے کا موضوع بھی زیر بحث آیا۔ تاہم قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی نے اپنی خبر میں اس موضوع کو ذکر نہیں کیا۔

قطری نیوز ایجنسی کی جانب سے ایران کے موضوع کو نظر انداز کرنے کا مقصد دوحہ کے تہران کے ساتھ تعلق کا خیال کرنا تھا۔ اس لیے کہ قطر کسی بھی ایسے امر سے گریز کر رہا ہے جس سے ایران کو نقصان پہنچے۔

امریکی صدر اور قطری امیر کے درمیان گفتگو سے متعلق وائٹ ہاؤس کے بیان میں ایران کے ساتھ نمٹنے کا موضوع بھی مذکور ہے جب کہ قطر کی نیوز ایجنسی کی خبر میں اس موضوع کو چھپا لیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق بات چیت کے دوران ٹرمپ نے قطر کے امیر کو سراہا۔ یہ سراہا جانا اس واسطے تھا کہ قطر کے امیر نے خلیج تعاون کونسل کی جانب سے ایران کی اُن تمام تر سرگرمیوں کے انسداد کے بہتر طریقوں پر روشنی ڈالی جن کا مقصد خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔

البتہ قطری نیوز ایجنسی نے شیخ تمیم کے اس کردار کی جانب اشارہ نہیں کیا جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ قطر اعلانیہ طور پر اس کردار سے انکاری ہے۔ اس کے علاوہ دوحہ کے نزدیک تہران سے کسی قسم کا خطرہ درپیش نہیں اور اس کے ساتھ تعاون کیا جانا چاہیے۔

تہران میں مبصرین اور تجزیہ کاروں نے قطری نیوز ایجنسی کی جانب سے ایران کے موضوع پر پردہ ڈالنے کی ایک دوسری وجہ بھی بیان کی ہے۔ ان کے مطابق شیخ تمیم ایران سے نمٹنے کے مجوزہ طریقوں کو خفیہ طور پر واشنگٹن تک پہنچانا چاہتے تھے تا کہ یہ ظاہر ہو سکے کہ قطر کے امیر جو کچھ کر رہے ہیں وہ امریکا کے مفاد میں ہے۔ تاہم درحقیقت وہ اپنے ظاہر کے مخالف موقف رکھتے ہیں۔

یہ امر اُس موقف سے مماثلت رکھتا ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قطر کا وتیرہ رہا ہے۔ قطر کا بائیکاٹ کرنے والے عرب ممالک بارہا دوحہ کو باور کرا چکے ہیں کہ وہ اپنا دوغلا پن ختم کر دے۔ اس لیے کہ قطر ایک طرف دہشت گردی کے خلاف مہم جوئی کرتا ہے اور ساتھ ہی اس کی سرپرستی بھی کر رہا ہے۔