برطانوی فوج نے کہا کہ یمن کے ساحل کے قریب بحیرۂ احمر میں اتوار کو ایک مال بردار بحری جہاز پر حملہ ہوا جو یمن کے قریب تازہ ترین سمندری حملہ ہے۔
یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے مرکز نے اطلاع دی کہ یہ حملہ ساحلی شہر الحدیدہ کے قریب ہوا جو ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔
یو کے ایم ٹی او نے بتایا کہ جہاز الحدیدہ سے 30 بحری میل (55 کلومیٹر) جنوب مغرب میں "نامعلوم مسلح حملہ آوروں کے حملے کی زد میں" آیا۔
یو کے ایم ٹی او نے کہا کہ ایک چھوٹی کشتی نے بڑی تعداد میں مال لے جانے والے جہاز کے قریب پہنچ کر فائر کھول دیا جس سے جہاز کے سکیورٹی گارڈز جوابی فائرنگ کرنے پر مجبور ہو گئے۔ پھر وہ تقریباً دو بحری میل (3.7 کلومیٹر) دور ایک بڑے جہاز پر واپس چلے گئے جس نے اپنا خودکار شناختی نظام بند کر رکھا تھا۔
برطانوی فوجی ایجنسی نے کہا کہ مال بردار جہاز اور عملہ محفوظ بتایا گیا ہے۔ حکام نے مزید کہا ہے کہ اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
فوری طور پر کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
-
اسرائیل نے یورپی رکنِ پارلیمنٹ کا موبائل ہیک کر لیا تھا
رکنِ پارلیمنٹ بننے والے یونانی شہری سٹیلیوس کلوگلو کا فون اکتوبر 2022 تا مارچ ...
مشرق وسطی -
یمنی حوثیوں کے حملے میں 14 سرکاری فوجی ہلاک: اہلکار
حوثی 2015 سے حکومت کے ساتھ تنازعے میں الجھے ہوئے ہیں
بين الاقوامى -
یمن میں حوثی سیل کا نیٹ ورک بے نقاب، العربیہ کے نامہ نگار کے قاتل گرفتار
دو رکنی سیل کے ارکان کو حراست میں لے لیا گیا
مشرق وسطی